صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 33
صحيح البخاری جلد ا ا - كتاب بدء الوحي کی ہے کہ عیسائیوں کے ایک بشپ نے عبد الملک بن مروان کے عہد حکومت میں یہ واقعہ ان کو سنایا۔اور ابونعیم نے بھی دلائل النبوۃ میں یہی نقل کیا ہے کہ ابن شہاب نے عبد الملک کے زمانہ میں ابن ناطور سے یہ واقعہ سنا۔( فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۶) اس روایت پر یہ اعتراض تو نہیں ہو سکتا کہ ابن ناطور جو کہ ہر قل کا دوست تھا اس سے زہری نے جو ۵۲ھ میں پیدا ہوئے کیسے ملاقات کی۔کیونکہ عبد الملک کا عہد حکومت ۵۲۵ سے ۸۶ھ تک تھا۔اس عرصہ میں وہ شخص جس کی عمر ہے، ۸۰ برس کی ہو، اس شخص کو پا سکتا ہے جو ۵۲ھ میں پیدا ہوا ہو۔زہری ۱۳۴ھ میں فوت ہوئے مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ عیسائی کلیسا کی تاریخ میں ابن ناطور نامی کوئی شخص نہیں گذرا جو بیت المقدس کا حاکم بھی ہو اور شام کے عیسائیوں کا بشپ بھی اور نہ ہرقل علم نجوم کا ماہر تھا اورنہ اس نے مذکورہ بالا خواب دیکھا اور یہ ایک محض قصہ ہے جس کی لغویت اس سے ظاہر ہے کہ ہر قتل کو ایسا نادان بتلایا گیا ہے کہ اسے اتنا بھی علم نہ تھا کہ یہود ختنہ کرتے ہیں۔کیونکہ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے ایک عیسائی عالم تو یقین نا واقف نہیں ہو سکتا۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ روایت کے عربی الفاظ ”مَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ “ میں هذه الأمة سے مراد یہود تو قطعا نہیں ہو سکتے کیونکہ جواب دینے والے یہ کہتے ہیں: لَيْسَ يَخْتَتِنُ إِلَّا الْيَهُودُ۔یهود کے سوا اور کسی قوم میں ختنہ نہیں ہوتا۔اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ هذِهِ الْأُمَّةِ سے اس کی مراد یہود نہیں بلکہ مطلق عرب مراد ہیں۔باقی رہا یہ کہ ہر قل علم نجوم سے واقف تھا یا اسے کوئی خواب آئی تھی تو اس کے متعلق مسیحی آثار سے اتنا پتہ ضرور چلتا ہے کہ وہ تو ہم پرست ضرور تھا اور انجیل وغیرہ سے فالیں نکالنے کا اس کو بہت شوق تھا۔(گین جلد ۵) (History Of The Decline And Fall Of The Roman Empire) اور ابن شہاب کی مذکورہ روایت میں یہ الفاظ ہیں جو انہوں نے ابن ناطور کی سند سے نقل کئے ہیں: وَكَانَ هِرَقْلُ حَراءُ حَزاء: جوتشی کو کہتے ہیں۔لیکن يَنظُرُ فِي النُّجوم کہ کر تخصیص کر دی ہے کہ وہ علم نجوم جانتا تھا اور یہ بعید نہیں کہ - وہ علم نجوم سے بھی واقف ہو۔کیونکہ پرانے زمانہ میں یہ علم علماء کے درسی نصاب کا ضروری حصہ تھا۔خصوصاً مصر و اسکندریہ کی تعلیم گاہوں میں اور ہر قل کی تعلیم و تربیت اسکندریہ میں ہوئی۔نیز مسیحی مصنفین کی تاریخوں کے مطالعہ سے اس کی ایک خواب کا بھی پتہ چلتا ہے۔گہن بھی اس کی پریشان خوابوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور آسکے کہتا ہے کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ کسی نے اس کو تخت سے دھکا دے کر نیچے گرا دیا اور اس کے سر سے تاج اتار دیا۔صفحه ۲۳۷ (History of The Saracens by Ockley) (History Of The Decline And Fall Of The Roman Empire, Chapter LI: Conquests By The Arabs۔-- Part V۔) Vol۔5 یہ خواب جو مؤرخ مذکور نے غالباً مسیحی روایات کی بناء پر نقل کیا ہے، زہری کی روایت کے ایک حصہ مضمون کی تائید کرتا ہے۔نیز اسلامی تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانہ میں غسان کے بادشاہ کے پاس دحیہ کلبی کو خط دے کر بھیجا تھا۔اس کا ذکر سابقہ روایات میں بھی آچکا ہے۔اس روایت کا آخری حصہ مضمون بھی غسان کا سردار بصری کا حاکم تھا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۸)