صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 32
صحيح البخاری جلد ) ۳۲ ا - كتاب بدء الوحي جیسا کہ ہم اگلی حدیث کی تشریح میں اس امر کو زیادہ وضاحت سے دکھلائیں گے۔ اس وقت کے پادری بھی ہر قل کی ان کمزوریوں کو محسوس کرتے تھے۔ چنانچہ انطاکیہ کے گرجے میں اس سے اپنے گناہوں کا اعتراف کرایا گیا ۔ مگر اس ظاہری اعتراف نے بھی اس کے اندر کوئی حقیقی تبدیلی نہیں کی۔ بلکہ اس اعتراف کے بعد جب مسلمانوں کی فوجوں کا رُخ اس طرف ہوتا ہے تو وہ ان کے پہنچنے سے پہلے انطاکیہ چھوڑ کر قسطنطنیہ پہنچ جاتا ہے۔ (History Of The Decline And Fall Of The Roman Empire, Vol۔4 Vol۔5 Part III۔ Chapter XLVII: Ecclesiastical Discord۔ Chapter LI: Conquests By The Arabs۔ -- Part V۔) & اس سے اسلامی تاریخ کی یہ روایتیں زیادہ تقویت پاتی ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے در حقیقت مرعوب تھا اور حق کو پہچانتا تھا۔ مگر اپنی قوم سے ڈرتا تھا اور ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔ اس ضمن میں ہر قل کی آخر دم تک یہ کوشش بھی قابل توجہ ہے کہ اس کی عیسائی رعایا یہ مان لیں کہ مسیح علیہ السلام کی دو الگ الگ طبیعتیں تھیں اور ان میں ایک ارادہ الہی کام کر رہا تھا اور ہر قل کا وہ اعلان بھی قابل غور ہے جو اس نے ۱۳۸ء میں قسطنطنیہ پہنچ کر تمام گرجوں میں چسپاں کروایا تھا۔ نیز اس نے اپنے ڈھب کے آدمی چن کر مختلف جگہوں میں انہیں پڑی آرک اور بشپ مقرر کیا۔ (ملاحظہ ہو " الطرفة النقية في الكنية المسيحية ) ایسے نازک وقت میں یہ ساری جدو جہد بلا وجہ نہ تھی۔ بلکہ اس کے پیچھے ایک ایسی سچائی کی روح کام کر رہی تھی جس کی کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ لا إله إلا الله کی دعوت کی ٹھیس نے ایک اضطراب پیدا کر دیا ہوا تھا۔ وہ اپنی قوم کو نقطہ توحید کے قریب لانے کی کوشش کر رہا تھا۔ کیونکہ یہ خیال کہ میچ میں ناسوتی اور ملکوتی طبیعتیں اور ایک مشیت الہی کام کر رہی تھی ، تثلیث کی نسبت توحید کے زیادہ قریب ہے۔ ہر قل کو مسلمانوں کے مقابل میں تمام جنگی کرتب بھول گئے اور ناموری پیدا کرنے کی خواہش یک دفعہ مٹ گئی! اور وہ آخری ایام میں صرف اس مذہبی خیال کے پیچھے پڑ گیا ۔ سوائے اس کے کہ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا رعب اور رعایا کے گناہ کے وبال کا خوف دامن گیر تھا ، اس کی اور کیا معقول وجہ ہو سکتی ہے! اگر محض سیاسی اغراض تھیں تو وہ یہ اغراض اپنے اس خیال کو چھوڑنے اور ہر ایک فرقہ کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق آزادی دینے سے بآسانی حاصل کر سکتا تھا۔ کیونکہ اس طرح وہ مسلمانوں کے مقابل پر تمام عیسائی فرقوں کی ہمدردی اور مدد کو اپنے لئے خرید سکتا تھا۔ اصل بات یہی ہے کہ ہر قل کے خیالات تبدیل ہو چکے تھے۔ عیسائی علماء کی طرف سے اسے بدعتی کا لقب ملنا تاریخ عیسائیت میں ایک مشہور و معروف واقعہ ہے۔ وَكَانَ ابْنُ النَّاطُورِ صَاحِبُ اِيْلِيَاءَ ۔۔۔۔ یہ ایک بالکل نئی روایت ہے جو زہری بیان کرتے ہیں۔ ابوسفیان کی روایت کے ساتھ جس کو حضرت ابن عباس نے نقل کیا ہے اس کا تعلق نہیں ۔ انا ہیں۔ بظاہر روایت کے الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ زہری نے ابن ناطور سے یہ واقعہ خود سنا۔ جیسا کہ طبری نے اپنی تاریخ میں بسند ابن اسحاق یہ روایت نقل