صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 975
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۷۵ ۹۷- كتاب التوحيد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِّنَ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: ادھر آؤ میں تمہیں اس الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ قَالَ وَاللَّهِ لَا قسم کے متعلق بتاتا ہوں۔میں اشعریوں کے چند أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ لوگوں کے ساتھ نبی مئی ایم کے پاس آیا کہ ہم فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ سے سواری مانگیں۔آپ نے فرمایا: اللہ کی بِنَهْبِ إِبِلِ فَسَأَلَ عَنَّا فَقَالَ أَيْنَ قسم ! میں تمہیں کوئی سواری نہ دوں گا اور میرے پاس ہے بھی نہیں جس پر میں تمہیں سوار کروں۔النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ اتنے میں غنیمت کے کچھ اونٹ نبی صلی نام کے ذَوْدٍ غُرّ الدُّرَى ثُمَّ انْطَلَقْنَا قُلْنَا مَا پاس لائے گئے۔آپ نے ہمارے متعلق پوچھا۔صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله فرمایا: وہ اشعری لوگ کہاں ہیں ؟ آپ نے ہمیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْمِلُنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا پانچ اونٹ دینے کا حکم دیا جو سفید کہانوں والے يَحْمِلُنَا ثُمَّ حَمَلَنَا تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللهِ تھے۔پھر ہم چل پڑے۔ہم نے کہا: ہم نے کیا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ وَاللَّهِ لَا کیا؟ رسول اللہ صلی عوام نے قسم کھائی تھی کہ آپ نُفْلِحُ أَبَدًا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ میں سواری نہیں دیں گے اور آپ کے پاس کچھ نہیں جس پر آپ ہمیں سوار کریں۔پھر آپ نے فَقَالَ لَسْتُ أَنَا أَحْمِلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ ہمیں سواری دے دی۔ہم نے رسول الله صلى اللعلم حَمَلَكُمْ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَخْلِفُ عَلَى کو آپ کی قسم سے غفلت میں رکھا۔اللہ کی قسم ہم فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا ہر گز کامیاب نہیں ہوں گے۔یہ خیال کر کے ہم أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَتَحَلَّلْتُهَا۔آپ کے پاس لوٹے اور ہم نے آپ سے کہا۔آپ نے فرمایا: میں تمہیں سواری نہیں دے رہا بلکہ اللہ نے تمہیں سوار کیا ہے۔میں اللہ کی قسم! جو بھی يَمِينٍ ایسی قسم کھا بیٹھوں پھر اس کے سوا کسی اور بات کو اس سے بہتر سمجھوں تو ضرور ہی میں وہی کرتا ہوں جو اس سے بہتر ہوتی ہے اور کفارہ دے کر اس قسم کو توڑ دیتا ہوں۔أطرافه ۳۱۳۳، ۱۳۸۵، ٤٤۱۵، ۰۰۱۷، ۵۵۱۸،۰، ۶۶۲۳، ٠٦٦٤۹ ٤٦٦٧٨ ٤٦٦٨٠ -٦، ٦٧٢١۷۱۹ ،۶۷۱۸