صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 974
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۷۴ ۹۷- كتاب التوحيد قَالَ أَبُو ذَةٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ سُئِلَ النَّبِيُّ سے کہا: ہمیں چند مختصر باتیں بتائیں جن پر اگر ہم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ عمل کریں تو جنت میں داخل ہو جائیں۔آپ نے أَفْضَلُ قَالَ إِيمَان بِاللهِ وَجِهَادٌ فِي ان کو ایمان اور کلمہ شہادت اور نماز کی پابندی سَبِيلِهِ۔وَقَالَ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ کرنے اور زکوۃ دینے کا حکم دیا اور ان میں سے ہر (الواقعة: ٢٥) وَقَالَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ ایک کو عمل قرار دیا۔لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْنَا بِجُمَلٍ مِّنَ الْأَمْرِ إِنْ عَمِلْنَا بِهَا دَخَلْنَا الْجَنَّةَ فَأَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ وَالشَّهَادَةِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ فَجَعَلَ ذَلِكَ كُلَّهُ عَمَلًا وُد وَإِحَاءٌ فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ٧٥٥٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۷۵۵۵ : عبید اللہ بن عبد الوہاب نے ہم سے بیان عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ کیا کہ عبد الوہاب نے ہمیں بتایا۔ایوب نے ہم حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَالْقَاسِمِ سے بیان کیا۔ایوب نے ابو قلابہ اور قاسم تمیمی سے، التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ ان دونوں نے زہدم سے روایت کی۔انہوں نے هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِتِينَ كها: جرم کے اس قبیلہ اور اشعریوں کے درمیان دوستی اور برادری کا تعلق تھا۔ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری کے پاس تھے۔ان کے سامنے کھانا لایا الْأَشْعَرِيِّ فَقُرِبَ إِلَيْهِ الطَّعَامُ فِيهِ گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا اور آپ کے پاس لَحْمُ دَجَاجِ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ بنوتیم اللہ کا ایک شخص تھا۔ایسا معلوم ہو تا تھا کہ وہ اللَّهِ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي فَدَعَاهُ إِلَيْهِ غلاموں میں سے ہے۔انہوں نے اس کو کھانے فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا کے لئے بلایا۔وہ کہنے لگا: میں نے اسے (مرغی کو ) فَقَدِرْتُهُ فَحَلَفْتُ لَا كُلُهُ فَقَالَ هَلُمَّ کچھ کھاتے ہوئے دیکھا تھا۔مجھے اس سے گھن آئی فَلْأُحَدِّثْكَ عَنْ ذَاكَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ اور میں نے قسم کھائی کہ اسے نہیں کھاؤں گا۔