صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 973 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 973

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۷۳ ۹۷- كتاب التوحيد غصہ پر غالب آ جاتا ہے۔“ (صحیح بخاری کتاب التوحید، باب قول الله تعالى بل هو قرآن مجيد في لوح محفوظ حدیث (۷۵۵۴) ،۷۵۵۴) پس کس قدر بد بختی ہو گی کہ انسان اس کے باوجود ایسے ارحم الراحمین خدا کے غضب کا مورد بنے۔“ (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۱۹ مارچ ۲۰۰۷ء، جلد ۵، صفحہ ۱۰۱) باب ٥٦ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاللهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (الصُّقْت: ٩٧) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: حالانکہ اللہ نے ہی تم کو بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے عمل کو بھی إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْتُهُ بِقَدَرٍ (القمر: ٥٠) (اور یہ فرمانا: ) ہم نے ہر چیز کو اندازے کے وَيُقَالُ لِلْمُصَوِّرِينَ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ مطابق پیدا کیا ہے۔ اور مورتیں بنانے والوں کو إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَ کہا جائے گا: زندہ کرو جو تم نے پیدا کیا۔ (اور یہ الْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى فرمانا: إِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ ا خَلَقَ السَّموات الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارِ يَطْلُبُهُ ابن عیینہ نے کہا: اللہ نے خلق کو امر سے الگ حَثِيثًا وَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَ النُّجُومَ بیان کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَلَا لَهُ الْخَلْقُ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ وَالْأَمْرُ - نبی صلى الله عليه علیہ وسلم نے ایمان کو بھی تَبْرَكَ اللهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ ) عمل فرمایا۔ حضرت ابوذر اور حضرت ابوہریرہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اعمال میں (الاعراف: ٥٥) سے کون سا عمل سب سے بڑھ کر ہے ؟ آپ نے قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ بَيْنَ اللهُ الْخَلْقَ فرمایا: اللہ پر ایمان رکھنا اور اس کی راہ میں جہاد مِنَ الْأَمْرِ بِقَوْلِهِ تَعَالَى أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ کرنا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ سب کچھ مومنوں الْأَمْرُ (الاعراف: ٥٥) وَسَمَّى النَّبِيُّ کے اعمال کی وجہ سے جزا کے طور پر ملے گا۔ اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانَ عَمَلًا عبد القیس کے نمائندوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : یقینا تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے جبکہ وہ اُسے جلد طلب کر رہا ہوتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے ( پیدا کئے) جو اس کے حکم سے مسخر کئے گئے ہیں خبر دار ! پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور حکومت بھی بس ایک وہی اللہ برکت والا ثابت ہو ا جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“