صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 971
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۷۱ ۹۷- كتاب التوحيد يُحَرِّفُونَ (النساء : ٤٧) يُزِيلُونَ، اپنی جگہ سے ہٹاتے ہیں اور کوئی شخص اللہ عز و جل وَلَيْسَ أَحَدٌ يُزِيلُ لَفَظَ كِتَابٍ مِنْ کی کتابوں میں سے کسی کتاب کے الفاظ نہیں مٹایا كُتُبِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَكِنَّهُمْ يُحَرِّفُونَهُ کرتا لیکن لوگ اس لفظ میں یوں تحریف کرتے يَتَأَوَّلُونَهُ عَنْ غَيْرِ تَأْوِيلِهِ دِرَاسَتِهِمْ ہیں کہ اس کے وہ معنی کرتے ہیں جو اس کے اپنے (الانعام : ١٥٧) تِلَاوَتُهُمْ وَاعِيَةٌ معنی نہیں ہوتے۔حراستہم کے معنی ہیں: ان۔کا اس کتاب کو پڑھنا۔وَاعِيَةٌ کے معنی ہیں: محفوظ (الحاقة:١٣) حَافِظَةٌ۔وَتَعِيَهَا تَحْفَظُهَا۔رکھنے والی۔نعیما کے معنی ہیں: اس کو محفوظ وَ أَوْحَى إِلَى هَذَا الْقُرْآنُ لِانْذِرَكُم بِهِ رکھتی ہے۔لِأُنلِدَ كُم پہ۔(اور میری طرف یہ (الانعام:٢٠) يَعْنِي أَهْلَ مَكَّةَ، وَ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں اس کے مَن بَلَغَ (الانعام :۲۰) هَذَا الْقُرْآنُ ذریعہ ڈراؤں) یعنی اہل مکہ کو۔اور وَمَنْ بَلَغَ فَهُوَ لَهُ نَذِيرٌ۔ان کو جن کو یہ قرآن پہنچا ہو تو وہ ان کے لئے بھی نذیر ہے۔٧٥٥٣: و قَالَ لِي خَلِيفَةُ بْنُ ۷۵۵۳: اور خلیفہ بن خیاط نے مجھ سے کہا کہ خَيَّاطٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ مُعتمر نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے اپنے باپ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي رَافِعِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے سنا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے ابورافع عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ہے، ابو رافع نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: جب اللہ مخلوق پیدا کر چکا تو اس نے اپنے حضور ایک نوشتہ لکھا میری رحمت میرے لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ غَلَبَتْ أَوْ قَالَ سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ۔ضب پر غالب ہے یا فرمایا: میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے اور یہ نوشتہ عرش کے اوپر اس کے پاس ہے۔أطرافه: ٣١٩٤، ٧٤٠٤، ٧٤٢٢، ٧٤٥٣، ٧٥٥٤۔٧٥٥٤: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ۷۵۵۴: محمد بن ابی غالب نے مجھ سے بیان کیا کہ