صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 970 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 970

صحيح البخاری جلد ١٦ ۹۷۰ ۹۷- كتاب التوحيد بالْحُسْنَى فَسَنُيَسِرُهُ لِلْعُسْرى لى (الليل : ۶ تا ۱۱) میں عمل کے انہی طبعی نتائج کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور یہ ایک ایسا قانون ہے جس کے ذریعے سے ہر قسم کی تقدیر انجام پاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے والے حضرت ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۲۸۸) اور آپ نے اسی آیت کا حوالہ دے کر عمر ان کو ایک اہم نکتہ معرفت سمجھایا ہے۔“ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح، كِتَابُ الجَنَائِرُ ، بَابُ مَوْعِظَةِ المُحَدِّثِ عِنْدَ القَبْر ۔ جلد ۲، صفحہ ۷۴۱) بَاب ٥٥ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ فِي لَوْحٍ محفوظ ( البروج : ۲۲ ،۲۳) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ کلام جو ان امور کی خبر دے رہا ہے) ایک بزرگ کلام ہے اور ہر جگہ اور ہر زمانہ میں پڑھا جانے والا کلام ہے۔ (اور مزید کمال یہ ہے کہ ) وہ وَالطُّورِ وَكِتَبٍ مَسْطُورٍ لوح محفوظ میں ہے اور یہ فرمانا:) میں طور کو شہادت کے طور پر پیش (الطور : ۳،۲) کرتا ہوں اور (اس) لکھی ہوئی کتاب کو بھی۔ قَالَ قَتَادَةُ مَكْتُوبٌ يَسْطُرُونَ قتادہ نے کہا: (مسطور کے معنی ہیں) لکھی گئی۔ (القلم : ٢) يَخْطُونَ فِي أُمِّ الْكِتٰبِ يَسْطُرُونَ کے معنی ہیں: وہ لکھتے ہیں۔ فی أُمّ (الزخرف: ٥) جُمْلَةِ الْكِتَابِ وَأَصْلِهِ الکتاب کے معنی ہیں: اصل مجمل کتاب میں۔ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَول کے معنی ہیں: وہ جو بات بھی کرتا حضرت مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلِ (3: ١٩) مَا يَتَكَلَّمُ ہے وہ اس کے ۔ ، وہ اس کے لئے لکھ دی جاتی ہے۔ اور مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كُتِبَ عَلَيْهِ۔ وَقَالَ ابن عباس نے کہا: خیر اور شر لکھ لیا جاتا ہے۔ ابْنُ عَبَّاسٍ يُكْتَبُ الْخَيْرُ وَالشَّرُّ يُحَرِّفُونَ (الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِ) کے معنی ہیں: ا۔ پس وہ جس نے (راہِ حق میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔ اور بہترین نیکی کی تصدیق کی تو ہم اُسے ضرور کشادگی عطا کریں گے اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی اور بہترین نیکی کی تکذیب کی تو ہم اُسے ضرور تنگی میں ڈال دیں گے۔