صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 969
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۶۹ ۹۷- كتاب التوحيد ایک کتاب دی ہے۔اس کا نام قرآن ہے۔میں نے اس کو سامنے رکھ کو بائیبل اور انجیل کو پڑھا ہے۔اور ژند و اوستا کو پڑھا ہے اور ویدوں کو بھی پڑھا ہے۔وہ اس کے سامنے کچھ ہستی نہیں رکھتے۔قرآن بڑا آسان ہے۔میں ایک دفعہ لاہور میں تھا۔ایک بڑا انگریزی خوان اس کے ساتھ ایک اور بڑا انگریزی خوان نوجوان تھا۔ہم ٹھنڈی سڑک پر چل رہے تھے۔اس نے مجھے کہا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَلَقَد يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ مگر قرآن کہاں آسان ہے۔میں نے کہا آسان ہے۔ہم دوسری کتابوں کو جمع کرتے اور ان کی زبانوں کو سیکھتے تو پہلے ہمیں ان کتابوں کا ملنا مشکل اور پھر ان زبانوں کا سیکھنا مشکل اور پھر ان کو ایک زبان میں کرنا مشکل۔پھر اس کی تفسیر کون کرتا۔قرآن کریم نے دعوی کیا ہے۔فِيهَا كُتُب قيِّمَةٌ البيئة: ۴) جو کتاب دنیا میں آئی اور جو اس میں نصیحتیں ہیں۔ان تمام کا جامع قرآن ہے۔باوجود اس جامع ہونے کے ایک ایسی زبان میں ہے جو ہر ایک ملک میں بولی جاتی ہے۔قرآن کریم میں تین خوبیاں ہیں۔پہلی کتابوں کی غلطیوں کو الگ کر کے ان کے مفید حصہ کو عمدہ طور پر پیش کیا ہے۔اور جو ضروریات موجودہ زمانہ کی تھیں ان کو اعلیٰ رنگ میں پیش کیا۔اس کے سوا جتنے مضامین ہیں اللہ کی ہستی، قیامت، ملائکہ، کتب، جزا سزا، اخلاق میں جو پیچیدہ مسئلے ہیں ان کو بیان کیا۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۴، صفحہ ۳۸،۳۷) اعْمَلُوا فَكُلُّ مُيَسرُ : عمل کئے جاؤ کیونکہ ہر شخص کو سہولتیں دی گئی ہیں۔حضرت سید زین العابدین ولی شاہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے قبرستان میں صحابہ کرام کو انسان کے انجام کی طرف توجہ دلائی ہے۔نیز قضاء و قدر کا مسئلہ نہایت عمدگی سے واضح فرمایا ہے کہ جس طرح یہ تقدیر ہے کہ بد بخت جہنم میں جائے گا۔اسی طرح یہ بھی تقدیر ہے کہ اس کی بد بختی کا سبب اس کی بد عملی ہے۔گویا بد عملی کی بد بختی جہنم کا موجب ہے۔۔۔آیت فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بالحسنى فَسَنُيَسِرُهُ لِلْيُسْرَى ، وَ أَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنى وَ كَذَّبَ