صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 968
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۶۸ ۹۷- كتاب التوحيد يَا رَسُولَ اللهِ فِيمَا يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ روایت کی۔وہ بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: یا قَالَ كُلِّ مُيَسَّرْ لِمَا خُلِقَ لَهُ۔رسول اللہ ! پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہر شخص کو جس مقصد کے طرفه: ٦٥٩٦- لئے پیدا کیا گیا ہے سہولت دے دی گئی ہے۔٧٥٥٢: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۷۵۵۲: محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَّنْصُورٍ نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔شعبہ وَالْأَعْمَشِ سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ عَنْ نے منصور اور اعمش سے روایت کی۔ان دونوں أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيّ رَضِيَ اللَّهُ نے سعد بن عبیدہ سے سنا اور سعد نے ابو عبد الرحمن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے ، ابو عبد الرحمن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا فَجَعَلَ سے، حضرت علی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ روایت کی کہ آپ ایک جنازہ میں تھے۔آپ نے ایک لکڑی لی اور زمین کریدنے لگے۔آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا ٹھکانہ أَوْ مِنَ النَّارِ قَالُوا أَلَا نَتَّكِلُ قَالَ آگ میں یا جنت میں لکھ نہ دیا گیا ہو۔انہوں نے کہا: کیا ہم بھروسہ کر کے عمل چھوڑ نہ دیں؟ آپ نے فرمایا: عمل کئے جاؤ کیونکہ ہر شخص کو سہولتیں دی گئی ہیں۔(پھر آپ نے یہ ساری آیت پڑھی:) مِنْ أَحَدٍ إِلَّا كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ اعْمَلُوا فَكُلِّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَ اتَّقى (الليل: ٦) الآية۔پس جس نے (خدا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔أطرافه ١٣٦٢، ٤٩٤٥، ٤٩٤٦، ٤٩٤٧، ٤٩٤٨، ٤٩٤٩، ٦٢١، ٦٦٠٥- مريح : وَلَقَدْ يَشَرُنَا الْقُرْآنَ لِلذِكرِ فَهَلْ مِن مل کر اللہ تعلی کا یہ فرمانا ہم نے قرآن کو عمل کے لئے آسان بنایا ہے۔پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل احسان اور کامل فضل اور کامل روحانیت سے مسلمانوں کو