صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 967
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۶۷ ۹۷- كتاب التوحيد بالکل اسی طرح جس طرح زمین کے طبقات ہوتے ہیں۔یہی حال قرآن کریم کا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق اس کے نئے نئے معانی اور مطالب نکلتے آئیں گے۔(تفسیر کبیر ، سورۃ العنکبوت، جلد۷ صفحه ۶۶۵ تا ۶۶۹) باب ٥٤ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ( القمر : ١٨) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ہم نے قرآن کو عمل کے لئے آسان بنایا ہے۔پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص کو اس كُلِّ مُيَسَّرْ لِمَا خُلِقَ لَهُ يُقَالُ مُيَسَّرٌ مقصد کے لئے سہولت دی جائے گی جس مقصد کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔کہا جاتا ہے: میسر مُهَيَّةٌ۔کے معنی ہیں: سامان دیا جائے گا۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ بِلِسَانِكَ اور مجاہد نے کہا: يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ بِلِسَانِكَ سے هَوْنًا قِرَاءَتَهُ عَلَيْكَ۔وَقَالَ مَطَرِّ الْوَرَّاقُ مراد ہے کہ ہم نے تیری زبان میں اس کے وَ لَقَد يَشَرُنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ پڑھنے کو تیرے لئے آسان کر دیا ہے۔اور معطر مدكر (القمر: ١٨) قَالَ هَلْ مِنْ طَالِبِ الورّاق نے کہا: وَ لَقَد يَشَرُنَا الْقُرْآنَ لِلذِكرِ عِلْمٍ فَيُعَانَ عَلَيْهِ۔فَهَلْ مِنْ منکر سے یہ مراد ہے: کیا کوئی طالب علم ہے کہ اس کی اس کے حاصل کرنے کے لئے مدد کی جائے۔٧٥٥١ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۷۵۵۱: ابو عمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ يَزِيدُ حَدَّثَنِي مُطَرِّفُ نے ہمیں بتایا۔یزید نے کہا: مطرف بن عبد اللہ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ نے مجھ سے بیان کیا۔مطرف نے حضرت عمران سے