صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 966 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 966

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۶۶ ۹۷- كتاب التوحيد نہ بن سکتی تھی۔لیکن جب ایسا زمانہ آیا کہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے دور ہوئے اور دنیا کے ذہنی اور علمی تغیر کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنے نہ کر سکے تو کہنے لگے یہ آیت بھی منسوخ ہے اور وہ آیت بھی منسوخ ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھڑا کیا اور آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ان معنوں میں منسوخ نہیں ہے کہ اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا اور جن آیات کو منسوخ قرار دیا جاتا تھا ان کے ایسے معنے بیان فرمائے جنہیں لوگوں کی عقلیں بآسانی قبول کر سکتی ہیں۔یہ ان آیات کا دوسرا بطن تھا جو خدا تعالیٰ نے آپ پر کھولا۔تو قرآن کریم کے سات بطن سے مرادسات عظیم الشان ذہنی اور عقلی اور علمی تغیرات ہو سکتے ہیں اور اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر ایسے تغیر میں قرآن کریم قائم رہے گا اور کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ہمارے زمانہ کی ضروریات کو قرآن پورا نہیں کرتا۔باقی الہامی کتابیں تو ایسی ہیں کہ جن کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب زمانہ بدلا اور دنیا میں تغیر آیا تو ان کتب میں جو کلام تھا اس کے وہ معنے نہ نکلے جو اس زمانہ کے ذہنوں کے مطابق ہوتے۔اس لئے وہ قابل عمل نہ رہیں مگر قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جوں جوں دنیا میں تغیر آتے جائیں گے اور لوگ قرآن پڑھیں گے اس زمانہ کی ضروریات کو پورا کرنے والا مفہوم اس میں سے نکلتا آئے گا اور لوگ تسلیم کریں گے کہ ہاں قرآن کریم ہی اس زمانہ کے لئے بھی کافی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس زمانہ کے لئے بھی رسول ہیں۔غرض فرمایا کہ قرآن کریم کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ یہ ہر زمانہ کے۔لیے کافی ہو گا۔اس میں ہر زمانہ کے خیالات پر بحث موجود ہو گی۔اگر اس زمانہ کے لوگوں کے خیالات غلط ہوں گے تو ان کی تردید کی جائے گی اور اگر صحیح ہوں گے تو تائید کی جائے گی۔در حقیقت قرآن کریم میں یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ جب وہ کوئی مضمون لیتا ہے تو اس کے تمام متعلقہ مضامین کو اس کے نیچے تہہ بہ تہہ جمع کر دیتا ہے۔