صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 965 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 965

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۶۵ -92 ٩- كتاب التوحيد قرآن کریم کی کئی آیات کے وہ معنے نظر نہ آئے جو بعد میں تغیر آنے والے زمانہ کے لوگوں کو نظر آئے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے جو نکات اور معارف نکالے وہ قرآن کریم میں نئی آیات داخل کر کے نہیں نکالے آیات وہی تھیں ہاں آپ پر اس زمانہ کے مطابق ان کا بطن ظاہر ہوا۔چونکہ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔اور موجودہ زمانہ مذہب کے متعلق امن اور صلح کا زمانہ تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم سے امن کے احکام اور صلح کی تعلیم پیش فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی ا ولم کو واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُضَيْطِرِهِ إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَ كَفَرَ فَ : الله الأكبر الغاشية: ۲۳- ۲۵) یعنی تجھے اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ تولوگوں سے جبری طور پر اپنا مذ ہب منوائے۔نہ ہم نے ان پر جبر کرنے کے لئے بھیجا ہے جو منہ پھیر لیتے ہیں اور کفر اختیار کرتے ہیں۔ان لوگوں کوسزا دینا خدا کا کام ہے۔تیرا کام نہیں۔کیونکہ خدادلوں کے حالات کو جانتا ہے تو نہیں جانتا۔یہ دوسرا بطن تھا جو اس زمانہ کے حالات کے مطابق آپ پر کھولا گیا۔اور اسلام کی تائید میں تلوار اٹھانے سے منع کیا گیا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ قرآن کریم کے سات بطن ہیں اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ دنیا میں سات بڑے بڑے تغیرات آئیں گے اور ہر تغیر کے زمانہ میں لوگوں کے ذہن بدل جائیں گے۔اس وقت خدا تعالیٰ قرآن کریم کے ایسے معنے کھول دے گا جو لوگوں کے اس وقت کے ذہنوں اور قلوب کو تسلی دینے والے ہوں گے۔اس زمانہ میں بیسیوں مسائل ایسے رنگ میں کھلے ہیں کہ پہلے ان کی ضرورت اور اہمیت محسوس نہیں کی جاسکتی تھی۔مثلاً آیات قرآنی کے نسخ کا مسئلہ ہے۔پہلے ایسے وقت میں نسخ کا سوال پیدا ہوا کہ اس وقت کے لوگوں کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہ تھی۔کیونکہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تھا۔پس باوجود نسخ کے عقیدہ کے یہ بات قرآن کریم کی سچائی کے معلوم کرنے میں روک