صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 75 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 75

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۵ ۸۹- كتاب الإكراه اس قدر احتیاطی تدبیر پر اکتفا کی کہ بنو قینقاع مدینہ سے نکل کر کسی دوسری جگہ جا کر آباد ہو جائیں تا کہ شہر کا امن برباد نہ ہو اور مسلمان ایک مار آستین کے شر سے محفوظ ہو جائیں۔ چنانچہ قبیلہ بنو قینقاع کے لوگ بڑے امن وامان کے ساتھ اپنے اموال اور بیوی بچوں کو اپنے ہمراہ لے کر مدینہ سے نکل کر دوسری جگہ آباد ہو گئے۔ مگر اس واقعہ سے یہود کے باقی دو قبائل نے سبق حاصل نہ کیا بلکہ آپ کے رحم نے اُن کو اور بھی ناواجب جرآت دلا دی اور ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ یہود کے دوسرے قبیلہ بنو نضیر نے بھی سر اُٹھایا اور سب سے پہلے اُن کے ایک رئیس کعب بن اشرف نے معاہدہ کو توڑ کر قریش اور دوسرے قبائل عرب کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف ساز باز شروع کی اور عرب کے ان وحشی درندوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے خلاف خطرناک طور پر ابھارا اور مسلمانوں کے خلاف ایسے ایسے اشتعال انگیز شعر کہے کہ جس سے ملک میں مسلمانوں کے لئے ایک نہایت خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی اور پھر اس بدبخت نے معزز مسلمان عورتوں کا نام لے لے کر اپنے اشعار میں اُن پر پھبتیاں اُڑائیں اور بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی اور جب آنحضرت کئی ایم کے حکم سے یہ شخص اپنے کیفر کردار کو پہنچا تو اس کا قبیلہ یک جان ہو کر مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور اُس دن سے بنو نضیر نے معاہدہ کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کے خلاف سازباز شروع کر دی اور بالآخر سارے قبیلہ نے مل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ باندھا اور یہ فیصلہ کر لیا کہ جس طرح بھی ہو آپ کو زندہ نہ چھوڑا جاوے۔ اور جب اُن کے ان خونی ارادوں کا علم ہے ہونے پر آنحضرت صلی اللہ اللہ علیہ وسلم نے اُن کی تنبیہہ اور سزا کا طریق اختیار کیا تو وہ نہایت مغرورانہ انداز میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کو تیار ہو گئے اور اس جنگ میں بنو قریظہ نے ان کی اعانت کی۔ مگر جب بنو نضیر مغلوب ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کو تو بالکل ہی معاف فرما دیا اور بنو نضیر کو بھی مدینہ سے امن وامان کے ساتھ چلے جانے کی اجازت دے دی البتہ اس قدر کیا کہ انہیں اُن کے اسلحہ ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی مگر صا الله