صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 76 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 76

صحیح البخاری جلد ۱۶ 24 ۸۹ - كتاب الإكراه اس احسان کا بدلہ بنو نضیر نے یہ دیا کہ مدینہ سے باہر جاکر ان کے رؤساء نے تمام عرب کا چکر لگایا اور مختلف قبائل عرب کو خطرناک طور پر اشتعال دے کر ایک ٹڈی دل لشکر مدینہ پر چڑھا لائے اور سب سے یہ پختہ عہد لیا کہ اب جب تک اسلام کو نیست و نابود نه کر لیں گے واپس نہیں جائیں گے۔ایسے خطر ناک وقت میں جس کا ایک مختصر خاکہ اوپر گزر چکا ہے۔یہود کے تیسرے قبیلہ بنو قریظہ نے کیا کیا؟ اور یہ قبیلہ وہ تھا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو نضیر کے موقع پر اُن کی غداری کو معاف کر کے خاص احسان کیا تھا اور پھر دوسرا احسان اُن پر آنحضرت صلی علم کا یہ تھا کہ باوجود اس کے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل بنو نضیر سے مرتبہ اور حقوق میں ادنی سمجھے جاتے تھے۔یعنی اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے ہاتھ سے قتل ہو جاتا تھا تو قاتل کو قصاص میں قتل کیا جاتا تھا، لیکن اگر بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے ہاتھ سے قتل ہو جاتا تھا تو محض دیت کی ادائیگی کافی سمجھی جاتی تھی، لیکن آنحضرت صلی اللہ ہم نے بنو قریظہ کو دوسرے شہریوں کے ساتھ برابری کے حقوق عطا کئے۔مگر باوجود ان عظیم الشان احسانوں کے بنو قریظہ نے پھر بھی غداری کی اور غداری بھی ایسے نازک وقت میں کی جس سے زیادہ نازک وقت مسلمانوں پر کبھی نہیں آیا۔بنو قینقاع کی مثال ان کے سامنے تھی، انہوں نے اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔بنو نضیر کا واقعہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا، انہوں نے اس سے سبق حاصل نہیں کیا اور کیا تو کیا کیا؟ یہ کیا کہ اپنے معاہدہ کو بالائے طاق رکھ کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کو فراموش کر کے عین اس وقت جبکہ تین ہزار مسلمان نہایت بے سروسامانی اور بے بسی کی حالت میں کفار کے دس پندرہ ہزار جرار اور خونخوار لشکر سے گھرے ہوئے بیٹھے تھے اور اپنی بیچارگی کو دیکھ کر اُن کے کلیجے منہ کو آرہے تھے اور موت انہیں اپنے سامنے دکھائی دیتی تھی، وہ اپنے قلعوں میں سے نکلے اور مسلمان مستورات اور بچوں پر عقب سے حملہ آور ہو گئے اور مسلمانوں کے اتحاد سے منحرف ہو کر اُس خونی اتحاد کی شمولیت اختیار کی جس کا اصل الاصول اسلام اور بانی اسلام کو نیست و نابود کرنا تھا۔ہاں اس