صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 74
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۴ ۸۹- كتاب الإكراه خلافت ثانیہ میں انہیں کافی مہلت دی گئی کہ وہ ایک نیک ہمسایہ کی طرح رہیں اور ان کی غداریاں معاف کی جاتی رہیں لیکن جب انہوں نے اپنا رویہ نہ بدلا اور امن سے رہنا نہ چاہا تو نا چار انہیں نکالنا پڑا جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ “ ( صحیح بخاری ترجمہ و شرح، کتاب الجزية، باب ۶، جلد ۵ صفحه ۵۲۳،۵۲۲) حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو اس وقت مدینہ میں یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے یعنی بنو قینقاع، قبیلہ بنو نضیر اور قبیلہ بنو قریظہ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد جو پہلا سیاسی کام کیا وہ یہ تھا کہ ان تینوں قبیلوں کے رؤساء کو بلا کر اُن کے ساتھ امن وامان کا ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدہ کی شرائط یہ تھیں کہ مسلمان اور یہودی امن وامان کے ساتھ مدینہ میں رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور ایک دوسرے کے دشمنوں کو کسی قسم کی مدد نہیں دیں گے اور نہ ایک دوسرے کے دشمنوں کے ساتھ کوئی تعلق رکھیں گے اور اگر کسی بیرونی قبیلہ یا قبائل کی طرف سے مدینہ پر کوئی حملہ ہو گا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے اور اگر معاہدہ کرنے والوں میں سے کوئی شخص یا کوئی گروہ اس معاہدہ کو توڑے گا یا فتنہ و فساد کا باعث بنے گا تو دوسروں کو اس کے خلاف ہاتھ اُٹھانے کا حق ہو گا اور تمام اختلافات اور تنازعات محمد صلی علیم کے سامنے پیش ہوں گے اور آپ کا فیصلہ سب کے لئے واجب التعمیل ہو گا مگر یہ ضروری ہوگا کہ ہر شخص یا قوم کے متعلق اسی کے مذہب اور اسی کی شریعت کے مطابق فیصلہ کیا جاوے۔ اس معاہدہ پر یہود نے کس طرح عمل کیا ؟ اس سوال کا جواب ہے۔ سب سے پہلے قبیلہ بنو قینقاع نے بد عہدی کی اور دوستانہ تعلقات کو قطع کر کے مسلمانوں سے جنگ کی طرح ڈالی اور مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کا کمینہ طریق اختیار کیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس صدارتی پوزیشن کو جو بین الاقوام معاہدہ کی رُو سے آپ کو حاصل تھی نہایت متمر دانہ انداز میں ٹھکرادیا مگر جب وہ مسلمانوں کے سامنے مغلوب ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرمادیا اور صرف