صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 964 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 964

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۶۴ ۹۷۔کتاب التوحيد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ قرآن کئی طرح پڑھا جا سکتا ہے۔اس حقیقت کو صرف عربی دان سمجھ سکتا ہے کیونکہ یہ بات صرف عربی میں ہی پائی جاتی ہے کسی اور زبان میں نہیں پائی جاتی۔عربی زبان میں ماضی اور مضارع کے جو صیغے ہیں اُن کے زیر اور زبر کئی طرح جائز ہوتے ہیں لیکن معنی نہیں بدلتے۔کسی حرف کے نیچے زیر لگا لیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور اگر اُس پر زبر پڑھیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور معنی ایک ہی رہتے ہیں۔کبھی تو یہ عام قاعدہ کے طور پر فرق ہوتا ہے یعنی علمی زبان میں اس لفظ کو کئی طرح بولنا جائز ہو تا ہے اور بعض موقعوں میں یہ فرق قبائل کے لحاظ سے ہوتا ہے یعنی بعض قبائل یا بعض خاندان ایک لفظ زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں۔بعض لوگوں کے منہ پر زبر چڑھی ہوئی ہوتی ہے اور بعض لوگوں کے منہ پر زیر چڑھی ہوئی ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت سے زیر یاز بر سے پڑھنے کی اجازت دے دیتے تھے لیکن اس سے معنوں پر کوئی اثر بھی نہیں پڑتا تھا نہ لفظ میں کوئی تبدیلی ہوتی تھی۔یہ فرق اور زبانوں میں نہیں پایا جاتا اس لئے دوسری زبانوں کے آدمی جب یہ بات سنتے ہیں تو وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید کسی شخص کو کوئی آیت پڑھائی ہوتی تھی اور کسی کو کوئی آیت پڑھائی ہوئی ہوتی تھی حالانکہ آیت کا کوئی سوال ہی نہیں نہ لفظ کا کوئی سوال ہے سوال صرف لفظوں کے بعض حروف کی حرکت کا ہے ان حرکات کے تغیر سے معنوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔صرف اتنا فرق پڑتا ہے کہ جس قوم کو جس حرکت سے پڑھنے میں آسانی ہو سکتی ہے وہ اس حرکت سے پڑھ لیتی ہے۔(دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۴۲۹،۴۲۸) سعبة احرف کی ایک اور تفسیر بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔قرآن کریم کے سات بطن ہیں۔عام طور پر لوگوں نے اس حدیث کو پوری طرح نہیں سمجھا۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف زمانوں کے تغیرات کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنے کھلتے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پہلے لوگوں کو