صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 963 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 963

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۶۳ ۹۷ - كتاب التوحيد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ يَا عُمَرُ سے کی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَقَرَأْتُ فَقَالَ كَذَلِكَ أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا یہ سورۃ اسی طرح نازل کی گئی۔پھر رسول اللہ صلی الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر ! تم پڑھو اور میں نے وہ قراءت پڑھی (جو آپ نے مجھے پڑھائی تھی۔) آپ نے فرمایا: اسی طرح یہ سورۃ نازل کی گئی۔دیکھو یہ قرآن سات طرزوں پر نازل کیا گیا ہے فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ۔جو اس میں سے آسان ہو اس کو تم پڑھو۔أطرافه: ٢٤١٩، ٤٩٩٢، ٥٠٤١، ٦٩٣٦- ریح : فَاقْرَءُوا مَا تَيَشَرَ مِنْهُ: پس (هم بغیر حد بندی کے کہتے ہیں کہ ) قرآن میں سے جتنا میسر آئے پڑھ لیا کرو۔سبعہ احرف کی مختلف تاویلات کی گئی ہیں۔بعض نے کہا ہے اس سے سات لغات مراد ہیں لیکن یہ بات حضرت عمرؓ اور حضرت ہشائم کے واقعہ سے رڈ ہوتی ہے۔دونوں کی ایک ہی زبان تھی دونوں قریشی تھے اس سے یہ بھی مراد نہیں کہ قرآنِ کریم کے ہر لفظ کو سات طرح سے پڑھا جا سکتا ہے۔سبعہ احرف سے مراد اُن سات ائمہ کی قرآت بھی نہیں جو اس بارہ میں مشہور ہیں کیونکہ ان میں سے پہلا شخص جس نے ان سات قرآتوں کو جمع کیا وہ چوتھی صدی کے ہیں۔علامہ ابن جزری کہتے ہیں مجھے یہ حدیث بہت مشکل لگی کہ اس کی تفہیم و مطالب سمجھنے کے لیے میں نے تیس سال غور و فکر کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ (۱) حرکات (زیر، زبر) کا فرق۔جیسے بخل لفظ ہے اسے بجل، بل اور مخمل پڑھا جا سکتا ہے۔تخسب اور تحسیب یعنی سین کی زیر اور زبر دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے۔(۲) اعراب کی تبدیلی سے اس طرح پڑھنا کہ معنی بدل جائیں۔جیسے فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ کو فَتَلَقَّى آدَمَ مِنْ رَبِّهِ كَلِمات پڑھا جائے۔یعنی آدم منصوب اور کلمات مرفوع۔(۳) حروف میں تبدیلی جیسے تبلُوا اور تخلوا جس سے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔(۴) حروف میں ایسی تبدیلی جس سے معانی پر فرق نہیں پڑتا جیسے بسطةً اور بصطةٌ، الصراط اور السراط ص اور سین آپس میں بدل جائیں۔(۵) لکھنے میں بھی فرق اور معنی میں بھی فرق جیسے اقد مِنكُمْ کو أَشَدَّ مِنْهُمْ پڑھا گیا ہے۔(۶) تقدیم و تاخیر کا اختلاف اس طرح کہ پہلا معروف اور دوسرا مجہول جیسے فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ اسے وَيُقْتَلُونَ فَيَقْتُلُونَ پڑھا جائے۔(۷) کسی حرف کی زیادتی یا کمی کی صورت میں جیسے واقصی کو وھی پڑھا گیا۔(۸) اظہار ، ادغام، ردم، الشمال، تفخیم، ترقیق مد، قصر، امالہ، فتح تحقیق، تسہیل، ابدال اور نقل کی صورت میں اختلاف جس میں لفظی یا معنوی کوئی فرق نہیں ہوتا۔صرف لفظوں کی ادائیگی کے طریق میں فرق ہوتا ہے جسے فن قرآت کے اصول کہا جاتا ہے۔وغیرہ جسے فن قرآت میں اصول کہا جاتا ہے۔( النشر فی قراءت العشر، جزء اول صفحه ۲۷) ( شرح کتاب التوحيد من صحيح البخاري للغنيمان، نزول القرآن علی سبعة احرف، جزء ۲ صفحه ۶۰۷ تا ۶۱۰)