صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 961 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 961

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۶۱ -92 و كتاب التوحيد لذت پیدا کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر حس کی تسکین کے لیے اس کے مناسب حال سامان پیدا کیے ہیں۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا اگر صحیح استعمال کیا جائے تو اس نعمت کے شکر کا صحیح معنوں میں حق ادا ہو گا۔اور یہ بات کا ئنات میں اللہ تعالیٰ کے لا محدود نظام میں جابجا نظر آتی ہے۔کہیں پرندوں کی چہچہاہٹ ، کہیں باد نسیم کے ساتھ پتوں کے ملنے کی آوازیں، کہیں آبشاروں سے گرتے ہوئے پانی کی آوازیں، غرض کائنات میں پھیلی ہوئی تمام آواز میں اپنے اندر ایک خاص صوتی حسن رکھتی ہیں اور انسان تو انسان جانور بلکہ حشرات الارض بھی ان آوازوں سے متاثر ہوتے ہیں۔یہ آواز میں کبھی خوش کرتی ہیں اور کبھی اپنی گرج کے ساتھ خوف بھی پیدا کرتی ہیں۔اور یوں کا ئنات کا حسن ہر سو ایک نئی شان میں ظاہر ہوتا ہے۔اس کی کنہ اور حقیقت کو انسان نہیں پا سکتا۔اللہ تعالیٰ جو خالق و مالک ہے وہی بہتر جانتا ہے کہ ان لا تعداد آوازوں کے اندر کس قدر مقاصد ، اغراض اور حکمتیں پنہاں ہیں۔فطرت انسانی کے مطابق ہر اچھی آواز جو انسان کے اندر خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت پیدا کرے اسے سننا محبت الہی میں ترقی کا باعث ہے۔اور خدا تعالیٰ کے کلام کو خوش الحانی سے پڑھی جانے والی آواز یقیناً انسان کے اندر اس کی محبت، عظمت اور تعلق بڑھانے کا باعث ہو گی۔بلاشبہ کلام الہی کو محبت اور توجہ سے سنتا خدا کے رحم کو جذب کرنے کا ذریعہ ہے جیسا کہ فرمایا: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَانْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الاعراف: ۲۰۵) اور (اے لوگو ! ) جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو سنا کرو اور چپ رہا کرو۔تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔نیز اسلام نے دن میں پانچ دفعہ خدا کی توحید اور اس کے رسول کی رسالت، خدا کی عبادت اور انسان کی فلاح پر مشتمل اذان کو اعلان کی صورت میں بآواز بلند دہرانے کا حکم دیا ہے جس سے ہر قسم کی شیطانی طاقتیں سرنگوں ہو کر بھاگتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق انسان کی فلاح ، رشد اور ترقیات کے سامان پیدا کیے جاتے ہیں۔دنیا میں یہ عام محاورہ بیان کیا جاتا ہے کہ موسیقی روح کی غذا ہے جسے لوگوں نے فحش نغمات اور شہوانی جذبات انگیخت کرنے والی آوازوں اور اداؤں سے منسوب کر رکھا ہے۔یہ بگڑی ہوئی فطرت کی طلب اور غذا تو ہو سکتی ہے، فطرت صحیحہ کی ترجمان اسے نہیں کہا جاسکتا۔فطرت صحیحہ یہ ہے، فرمایا: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : ۳۱) یعنی اللہ کی ( پیدا کی ہوئی) فطرت کو اختیار کر ( وہ فطرت) جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔پس اس فطرت انسانی کی غذا ذرات کا ئنات سے اٹھنے والی وہ آوازیں ہیں جو خالق و مالک کے وجود کا پتا دیتی اور اس کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔وہی در اصل روح کی غذا ہیں اور یہ آوازیں کائنات عالم میں ہر سوسنائی دیتی ہیں۔بَاب ٥٣ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ (المزمل: ٢١) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: پس (ہم بغیر حد بندی کے کہتے ہیں کہ) قرآن میں سے جتنا میسر آئے پڑھ لیا کرو ٧٥٥٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۷۵۵۰: یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث