صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 960
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۶۰ ۹۷- كتاب التوحيد ٧٥٤٨: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۵۴۸ : اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مجھے بتایا۔انہوں نے عبد الرحمن بن عبد اللہ بن بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عبد الرحمن بن ابی صعصعہ سے، عبدالرحمن نے عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدِ اپنے باپ سے روایت کی۔انہوں نے ان کو خبر دی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ اُن سے کہا: میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریاں اور جنگل پسند کرتے ہو۔جب تم اپنی بکریوں یا غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَنْتَ لِلصَّلَاةِ (کہا: ) اپنے جنگل میں ہو اور نماز کے لئے اذان دو فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِدَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ تو اپنی آواز کو اذان دیتے وقت بلند کرو کیونکہ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِنِ جِنْ وَلَا إِنس جہاں تک مؤذن کی آواز جاتی ہے وہاں تک جو وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بھی اس آواز کو سنے گا جن ہو یا انسان یا کوئی اور قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ چیز تو ضرور ہی وہ قیامت کے روز اس کے لئے گواہی دے گی۔حضرت ابو سعید نے کہا: میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔أطرافه: ٦٠٩، ٣٢٩٦۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔٧٥٤٩: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۷۵۴۹ قبیصہ نے ہم سے بیان کیا سفیان نے ہمیں عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ بتایا۔انہوں نے منصور سے ہمنصور نے اپنی ماں قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے ، ان کی ماں نے حضرت عائشہؓ سے روایت يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِي وَأَنَا کی۔آپ فرماتی ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھا کرتے اور آپ کا سر میری گود میں ہوتا اور حَائِض۔طرفه: ۲۹۷۔میں اس وقت حائضہ بھی ہوتی۔تشريح : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ سَفرَة الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَزَيَّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ :نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا قرآن کا ماہر ان معزز ہستیوں کے ساتھ ہو گا جو فرمانبردار محبت کے متلاشی ہیں اور قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو۔اسلام چونکہ دین فطرت ہے اور فطرت انسانی میں اللہ تعالیٰ نے خوبصورت اور سریلی آوازوں کے سننے کی حس اور