صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 959
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۵۹ ۹۷۔کتاب التوحيد مِنْكُمُ (النور: ١٢) الْعَشْرَ الْآيَاتِ كُلَّهَا۔کوئی ایسی بات کرے جو پڑھی جائے اور اللہ عز وجل نے یہ آیت نازل کی: إِنَّ الَّذِيْنَ جَاءُو بالا فكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ - گل دس آیتیں۔أطرافه ٢٥٩٣، ٢٦٣٧، ٢٦٦١ ، ٢٦٨٨، ۲۸۷۹، ٤۰۲۰، ٤١٤١، ٤٦٩٠، ٤٧٤٩، -۷۵۰۰ ،۷۳۷۰ ،۷۳۶۹ ،٠٦٦٦ ٦٦٧٩۲ ،۰۲۱۲ ،٤٧٥٠، ٤٧٥ ٧٥٤٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۷۵۴۶: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر نے مِسْعَرٌ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ أُرَاهُ عَنِ ہمیں بتایا۔انہوں نے عدی بن ثابت سے الْبَرَاءَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله روایت کی۔میں سمجھتا ہوں انہوں نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ وَالتِّين براہ سے روایت کی۔حضرت براڈ نے کہا: میں وَالزَّيْتُونِ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء میں وَالشّينِ وَالزَّيْتُونِ پڑھتے سنا اور میں نے کسی شخص کو بھی صَوْتًا أَوْ قِرَاءَةً مِنْهُ۔أطرافه: ٧٦٧، ٧٦٩ ٤٩٥٢۔نہیں سنا کہ جو آپ سے بڑھ کر خوش آواز ہو یا (کہا : ) آپ سے اچھا پڑھتا ہو۔٧٥٤٧: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ۷۵۴۷: حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشَرِ عَنْ ہشیم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو بشر سے ، ابوبشر سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارِيًا بِمَكَّةَ وَكَانَ صلى اللہ علیہ وسلم مکہ میں مخفی رہے تھے۔تاہم يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَإِذَا سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ آپ بلند آواز سے بھی (پڑھتے)۔جب مشرک سَبُوا الْقُرْآنَ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ اللهُ سنتے تو وہ قرآن کو بُر ابھلا کہتے اور اس کو بھی جو عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اے لایا۔اس پر اللہ عزو جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: تو اپنی نماز بلند آواز سے نہ وَلا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا (بنی اسرائیل: ۱۱۱) پڑھ اور نہ بالکل خاموشی سے۔أطرافه: ٤٧٢٢، 7490، ٧٥٢٥۔