صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 957
۹۵۷ ۹۷- كتاب التوحيد صحیح البخاری جلد ۱۶ طرف منتقل کرے تاکہ اس کا مضمون دوسروں کو سمجھ آجائے، امام ابو حنیفہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ ہر قل کے ترجمان نے قرآن مجید کی آیات کا اپنی زبان میں ترجمہ کیا حتی کہ ہر قل نے قرآن مجید کا معنی سمجھ لیا، اس سے معلوم ہوا کہ تفہیم کی غرض سے قرآن مجید کی فارسی میں تلاوت جائز ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحہ ۱۹۱) لا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمُ : اہل کتاب کی تصدیق مت کرو اور نہ ہی ان کو جھٹلاؤ۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: اہل کتاب کے بارے میں جمہور کے فتووں کی بناء حضرت ابو ہریرہ کی یہی حدیث ہے کہ جن باتوں کے علم حاصل کرنے کا ذریعہ سوائے اقوال اہل کتاب کے اور کچھ نہ ہو تو خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے۔روایت زیر باب میں اہل کتاب کا بڑا نقص جو انہیں بحیثیت قوم نا قابل اعتماد بناتا ہے وہ تحریف کتب مقدسہ ہے۔جو شخص کتاب البی میں تغیر و تبدل کرتا ہے اس کے اقوال کا اعتبار کرنا احساسات کے خلاف ہے۔66 (صحیح البخاری، ترجمه و شرح، کتاب الشَّهَادَاتِ، بَاب لا يُسْأَلُ أَهْلُ المرك، جلد ۴، صفحه ۷۵۷) فَقَالَ لِلْيَهُودِ مَا تَصْنَعُونَ بِهِمَا: آپ نے یہودیوں سے پوچھا: تم ان سے کیا کیا کارروائی کرتے ہو ؟ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ بیان کرتے ہیں: ”اہل کتاب کے علماء کو خوب معلوم ہے لیکن ان اہل کتاب کا تو اپنا یہ حال تھا کہ زنا جیسے جرم کے ارتکاب پر دلیر اور تورات کی سزا نافذ کرنے سے کتراتے ہیں بلکہ سنگساری کی سزا کے تورات میں پائے جانے سے ہی منکر ہیں جس پر حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے انہیں جھٹلایا اور وہ یہودی علماء میں سے ایک جید عالم تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے۔“ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح، كِتَابُ المَنَاقِبِ، بَابُ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ۔۔، جلد۷، صفحه ۱۳۲) باب ٥٢ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ سَفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَزَيَّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: قرآن کا ماہر ان معزز ہستیوں کے ساتھ ہو گا جو فرمانبردار محبت کے متلاشی ہیں اور قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو ٧٥٤٤ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ :۷۵۴۴: ابراہیم بن حمزہ نے مجھ سے بیان کیا کہ