صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 73 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 73

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۷۳ ۸۹ - كتاب الإكراه جب انتہائی شدت اختیار کر لیتی ہے تو مجلس اقوام عالم کو یہی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ ایسی قوم کسی دوسری جگہ آباد کی جائے۔الفاظ أَقِرُكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ۔میں تمہیں اس وقت تک یہاں رہنے دوں گا جب تک اللہ تمہیں رہنے دے۔یعنی جب تک تم حدود آئین کی نگہداشت رکھو گے یہاں رہ سکو گے لیکن جب تم امن عامہ میں مخل ہو گے تو اُس وقت یہاں سے نکال دیئے جاؤ گے اور کسی اور جگہ آباد کئے جاؤ گے اور تمہیں اس غلامی میں بطور ہمسایہ قوم زندگی بسر کرنے کا حق نہیں ہو گا۔چنانچہ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں ان سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا گیا لیکن جب وہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں شرارت کرنے لگے تو نکال دیئے گئے۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ مندرجہ واقعہ ان یہودیوں سے متعلق ہے جو قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر میں سے بعض شرائط پر مدینہ منورہ میں رہے اور جب ان سے شرائط کی خلاف ورزی ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی جلا وطن کر دیا۔آپ نے پہلے کوشش فرمائی کہ انہیں تبلیغ اسلام کی جائے جیسا کہ یہود کی درسگاہ میں جانے اور دعوتِ اسلام دینے سے ظاہر ہے۔اس واقعہ میں حضرت ابوہریرہ خود موجود تھے اور ان کا یہ بیان کردہ واقعہ بنو قینقاع اور بنو نضیر کی جلاوطنی سے بہت بعد کا ہے۔حضرت ابو ہریرۃ افتح خیبر کے بعد مدینہ میں آئے اور اسلام قبول کیا۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۲۶) غزوہ خیبر ےھ میں ہوا، غزوہ بنو قینقاع ۲ھ اور غزوہ بنو نضیر ۳ھ کے اواخر میں اور غزوہ بنو قریظہ ۵ھ میں ہوا۔واقعات سے ظاہر ہے کہ یہود کی جلاوطنی تدریجا عمل میں آئی۔اس عرصہ میں انہیں تبلیغ اسلام کی دعوت برابر ہوتی رہی اور ان میں سے بعض نے اسلام قبول کر لیا اور اپنے اخلاص کا ثبوت دیا لیکن باقیوں کی غداری ظاہر ہونے پر انہیں حسب معاہدہ آخر مدینہ چھوڑنا پڑا۔۔۔یہاں یہ ذکر کر دینا فائدہ سے خالی نہ ہو گا کہ روایتوں میں اختصار ہے۔اس لئے شبہ ہوتا ہے کہ ادھر سے آسلموا کہا گیا اور اُدھر سے انکار ہوا اور انکار کرنے والے فورا جلا وطن کر دیئے گئے لیکن ایسا نہیں ہوا۔خیبر مدینہ سے ۲۰۰ میل دور ہے اور یہو دیانِ خیبر کی جلاوطنی ایک لمبے عرصہ کے بعد عمل میں آئی تھی۔یعنی