صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 954 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 954

صحیح البخاری جلد ١٦ ۹۵۴ ۹۷- كتاب التوحيد سے راضی ہو جاوے اور متقی اور مخلص مومن ہو کر اعمال صالحہ بجالاوے تو ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے جو معاملات ہوا کرتے ہیں اور جو سنت اللہ اس کی جاری ہے وہ اس کے ساتھ بھی ضرور ہی ہو گی۔ اس کی خواہش کی حاجت ہی کیا۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ ( حم السجدہ: (۳۱) یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر انہوں نے سچی استقامت دکھائی یعنی ہر قسم کے مصائب اور مشکلات عسر یسر میں انہوں نے قدم آگے ہی بڑھایا اور ہر قسم کے امتحانوں میں وہ پاس ہو گئے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے جو اُن کو خوشخبریاں دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ولی ہیں۔ اس حیات دُنیا میں تمہیں کوئی غم اور حزن نہ ہو گا ۔ یا دوسری جگہ فرمایا اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَتِ إلى النور (البقرة: ۲۵۸) یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کا ولی ہوتا ہے اور انہیں ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔“ (ملفوظات، جلد ۵، صفحہ ۷۶) فَرَجَعَ فِيهَا : آپ نے اس قراءت کو ترجیح سے پڑھا۔ لسان العرب میں ہے : تَرْدِيدُ الْقِرَاءَةِ وَمِنْهُ تَرْجِيعُ الْأَذَانِ، وَقِيلَ: هُوَ تَقَارُبُ ضُروبِ الْحَركات في الصوت (لسان العرب رجع) قراءت کو دہرانا۔ اور اسی سے ترجِيعُ الْآذَانِ ہے یعنی اذان کے الفاظ کو دہرانا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترجیع سے مراد حروف کو حرکات کے مطابق اور خوش الحانی سے ادا کرنا۔ زیر باب روایت نمبر ۷۵۴۰ میں معاویہ بن قرة کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ نے ترجیع سے مراد حرکات کو لمبا کر کے ادا کرنا لیا ہے۔ شیخ ابو محمد بن ابی جمرہ نے کہا کہ ترجیع کے معنی خوش الحانی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا ہے۔ نہ یہ کہ مغنی کی طرح راگ کی شکل میں پڑھنا۔ ( فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۱۱۵) باب ٥١ مَا يَجُوزُ مِنْ تَفْسِيرِ التَّوْرَاةِ وَغَيْرِهَا مِنْ كُتُبِ اللَّهِ بِالْعَرَبِيَّةِ وَغَيْرِهَا عربی وغیرہ زبان میں تو رات اور اس کے سوا جو اللہ کی کتابیں ہیں ان کا ترجمہ کرنا جو جائز ہے لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَيةِ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تو کہہ دے کہ اگر تم بچے ہو تو تو رات لاؤ اور اُسے پڑھو۔ فَاتُلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ (آل عمران: ٩٤)