صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 953 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 953

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۵۳ ۹۷- كتاب التوحيد کوئی فعل اور کوئی قول وحی کی آمیزش سے خالی نہیں گو وہ وحی مجمل ہو یا مفصل۔خفی ہو یا جلی۔بین ہو یا مشتبہ یہاں تک کہ جو کچھ آنحضرت صلعم کے خاص معاملات و مکالمات خلوت اور ستر میں بیویوں سے تھے یا جس قدر اکل اور شرب اور لباس کے متعلق اور معاشرت کی ضروریات میں روز مرہ کے خانگی امور تھے سب اسی خیال سے احادیث میں داخل کئے گئے کہ وہ تمام کام اور کلام روح القدس کی روشنی سے ہیں چنانچہ ابو داؤد وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے اور امام احمد بیچند وسائط عبد اللہ ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ نے کہا کہ میں جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا لکھ لیتا تھا تا میں اُس کو حفظ کر لوں۔پس بعض نے مجھ کو منع کیا کہ ایسا مت کر کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں کبھی غضب سے بھی کلام کرتے ہیں تو میں یہ بات سن کر لکھنے سے دستکش ہو گیا۔اور اس بات کا رسول اللہ صلعم کے پاس ذکر کیا۔تو آپ نے فرمایا کہ اُس ذات کی مجھ کو قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو مجھ سے صادر ہو تا ہے خواہ قول ہو یا فعل وہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن ، جلد ۵ صفحه ۱۱۲ ۱۱۳) إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا: جب (میرا) بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہو جاتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ رحیم کریم ایسا ہے کہ اگر کوئی اس کی طرف بالشت بھر آتا ہے تو وہ ہاتھ بھر آتا ہے اور اگر کوئی معمولی رفتار سے اس کی طرف قدم اُٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔غرض مومن کبھی ان باتوں کو اپنی زندگی کا مقصد تجویز نہیں کرتا کہ اُسے خواہیں آنے لگیں یا کشوف ہوں یا الہامات ہوں۔وہ تو ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے۔اللہ تعالیٰ کی مقادیر اور قضا سے راضی ہو جانا بھی سہل امر نہیں۔یہ ایک مشکل اور تنگ راہ ہے۔اس سے ہر کوئی گذر نہیں سکتا۔پس جب انسان ان اغراض کو مد نظر رکھے گا کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے اور وہ خدا تعالیٰ