صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 952
صحیح البخاری جلد ۱۶ إِلَى أَبِيهِ۔۹۵۲ ۹۷- كتاب التوحيد چاہیے کہ وہ یونس بن متی سے اچھا ہے اور آپ نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔أطرافه ٣٣٩٥، 3413، ٤٦٣٠- ٧٥٤٠: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي ۷۵۴۰: احمد بن ابی سر یج نے ہم سے بیان کیا کہ رَيْجٍ أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ شبابہ نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔مُّعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ شعبہ نے معاویہ بن قرہ مزنی سے، معاویہ نے بْنِ مُغَفَّلِ الْمُزَنِي قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ حضرت عبد اللہ بن مغفل مزئی سے روایت کی۔اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْح انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ أَوْ مِنْ وسلم کو فتح مکہ کے دن ایک اونٹنی پر سوار دیکھا جو سُورَةِ الْفَتْحِ قَالَ فَرَجَعَ فِيهَا قَالَ ثُمَّم آپ کی تھی۔آپ سورۃ فتح پڑھ رہے تھے یا قَرَأَ مُعَاوِيَةَ يَحْكِي قِرَاءَةَ ابْنِ مُغَفَّل (کہا:) سورۃ فتح سے پڑھ رہے تھے۔حضرت عبد اللہ نے کہا: آپ نے اس قراءت کو ترجیح سے وَقَالَ لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيْكُمْ لَرَجَعْتُ كَمَا رَجْعَ ابْنُ مُغَفَّلِ يَحْكِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ كَيْفَ كَانَ تَرْجِيعُهُ قَالَ ٢٢ آ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔أطرافه: ٤٢٨١، ٤٨٣٥، ٤٥٠٣٤ ٥٠٤٧ پڑھا۔(شعبہ نے) کہا: یہ کہہ کر معاویہ نے حضرت ابن مغفل کی قراءت کی نقل کرتے ہوئے پڑھا اور کہنے لگے: اگر یہ خیال نہ ہو کہ لوگ تمہارے پاس اکٹھے ہو جائیں گے تو میں اسی طرح ترجیح سے پڑھوں جس طرح حضرت ابن مغفل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرتے ہوئے ترجیع سے پڑھا۔میں نے معاویہ سے پوچھا: حضرت ابن مغفل نے کس طرح ترجیح سے پڑھا؟ تو انہوں نے کہا: آآآتین بار۔ريح : ذِكْرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِوَايَتُهُ عَنْ رَبِّهِ: بی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے روایت کرنا اور کسی بات کا ذکر کرنا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت صحابہ کا بلاشبہ یہ اعتقاد تھا کہ آنجناب کا