صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 949
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۴۹ ۹۷۔کتاب التوحيد حضرت عبد اللہ بغیر کنیت سے یہی مراد ہوتے ہیں۔" (صحیح البخاری، ترجمه و شرح كتاب مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ، فَضْلِ الصَّلاةِ لِوَقيها۔۔، جلد ا، صفحه ۶۲۸) باب ٤٩: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَدُوْعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُ جَرُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا (المعارج: ۲٠ - ۲۲) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: انسان کی فطرت میں تلون ہے۔جب اس کو کوئی تکلیف پہنچے تو گھبر ا جاتا ہے اور جب اس کو کوئی فائدہ پہنچے تو بخل کرنے لگ جاتا ہے (اور نہیں چاہتا کہ کوئی اس کا شریک ہو) هَدُوعًا ضَجُورًا۔هَدُوعا کے معنی ہیں: جلدی سے اُکتا جانے والا۔٧٥٣٥: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۷۵۳۵ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ جریر جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا بن حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حسن سے عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ روایت کی کہ حضرت عمرو بن تغلب نے ہم سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالٌ فَأَعْطَى بیان کیا۔انہوں نے کہا: نبی صلی ال نیم کے پاس کچھ مال آیا تو آپ نے بعض لوگوں کو دیا اور بعض کو نہ قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِينَ فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ عَتَبُوا دیا۔پھر آپ کو خبر پہنچی کہ وہ خفا ہو گئے ہیں تو فَقَالَ إِنِّي أُعْطِي الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ آپ نے فرمایا: میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور ایک وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي شخص کو چھوڑتا ہوں حالانکہ وہ جس کو چھوڑتا أُعْطِي أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ ہوں وہ مجھے زیادہ پیارا ہوتا ہے بنسبت اس شخص مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى کے جس کو میں دیتا ہوں۔بعض لوگوں کو اس لئے مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِّنَ الْغِنَى دیتا ہوں کہ ان کے دل میں بے صبری اور لالچ وَالْخَيْرِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِب ہوتا ہے اور بعض لوگوں کو اس بے نیازی اور فَقَالَ عَمْرُو مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ بھلائی کے سپرد کر دیتا ہوں جو اللہ نے ان کے رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ دلوں میں رکھی ہوتی ہے۔ان لوگوں میں سے عمر و بن تغلب بھی ہیں۔حضرت عمرو نے کہا: میں پسند النَّعَمِ۔أطرافه: ٩٢٣، ٣١٤٥۔نہیں کرتا کہ رسول اللہ صل اللی علم کے کلمہ کے بدلے میرے لئے سرخ رنگ کے اُونٹ ہوں۔