صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 948
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۴۸ ۹۷- كتاب التوحيد سے، الْعَوَّامِ عَنِ الشَّيْبَانِي عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عباد بن عوام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شیبانی الْعَيْزَارِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنِ شیبانی نے ولید بن عیزار سے، ولید نے ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا ابو عمرو شیبانی سے، ابو عمرو نے حضرت ابن مسعود سَأَلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: عملوں میں سے کون سا عمل سب سے بڑھ کر ہے؟ فرمایا: نماز کو اپنے وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله۔أطرافه: ۵۲۷، ۲۷۸۲، ۵۹۷۰ وقت پر پڑھنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ريح : وَعَلَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاة عملا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو بھی عمل قرار دیا۔أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ : عملوں میں سے کون سا عمل سب سے بڑھ کر ہے؟ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: سوال آئى الْعَمَلِ أَحَبُّ إلى الله کا جواب جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے وہ سائل کو مد نظر رکھ کر دیا ہے۔مستند روایات سے معلوم ہو تا ہے کہ آپ سے یہ سوال مختلف لوگوں نے پوچھا اور آپ نے سوال کرنے والے کی حالت اور موقع و محل کی مناسبت سے اس کا جواب بھی مختلف دیا ہے۔ابتدائے اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کی اشد ضرورت تھی تو اس وقت آپ نے جہاد کو افضل الاعمال قرار دیا۔(بخاری کتاب العتق باب الى الرقاب افضل، روایت نمبر ۲۵۱۸) نصوص صریحہ سے ثابت ہے کہ نماز صدقہ سے افضل ہے مگر ایک مضطر کے لیے صدقہ کا انتظام کرنا افضل ہو گا خواہ نماز میں کچھ تاخیر بھی ہو جائے۔یہاں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص حالات مد نظر رکھ کر جواب دیا ہے یعنی حقوق اللہ میں نماز جو وقت پر پڑھی جائے سب سے پیارا عمل ہے۔حقوق القربی میں والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور حقوق العباد میں بندگانِ خدا کی روحانی اصلاح میں کوشاں رہنا۔پوچھنے والے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ہیں۔