صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 947
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۴۷ و - كتاب التوحيد کامل ذات خود کسی کی محتاج نہیں ہوا کرتی مگر دوسرے اس کو کامل جاننے کے واسطے محتاج ہوتے ہیں۔دیکھو خدا اپنی ذات میں کامل ہے اور اس کو دلائل کی ضرورت نہیں مگر چونکہ ہم دلائل کے محتاج ہیں اس لئے مصنوعات وغیرہ کے دلائل ہم کو دینے پڑے۔“ ( حقائق الفرقان جلد اول صفحہ ۵۰۲،۵۰۱) فَهُوَ فَضْلِى أُوتِيْهِ مَنْ أَشَاءُ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: عمل کا انحصار خاتمہ پر ہے۔ایک کام شروع کر کے اس کو درمیان میں چھوڑ دینا نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا عمل کی قیمت تکمیل عمل سے ہے۔اس نکتہ معرفت کو سمجھانے کے لئے جو مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی دی ہے۔(دیکھئے: متی باب ۲۰، آیت: ۱ تا ۱۶) اللہ تعالیٰ کا فضل بھی تکمیل عمل پر ہوتا ہے نہ کثرت عمل پر۔یہود و نصاریٰ نے کہا: نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلا کہ ہم بہت عمل کرنے والے ہیں۔مگر باوجود اس کے فضل الہی یہود و نصاریٰ کے شامل حال نہ ہوا۔بغیر عذر کے کام چھوڑ دینا انسان کو کسی ثواب کا مستحق نہیں ٹھہراتا۔فَقَالُوا لَا حَاجَةَ لَنَا إِلَى أَجْرِ۔یہود و نصاری نے کہا: ہمیں تیری مزدوری کی ضرورت نہیں۔یہ کہہ کر بغیر کسی معقول سبب کے کام چھوڑ دیا اور اپنا معاہدہ پورانہ کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اجر سے محروم ہو گئے۔“ ( صحیح البخاری، ترجمه و شرح، كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ، بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ العَصْير۔۔۔جلد ا، صفحه ۶۵۶) بَاب ٤٨ : وَسَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ عَمَلًا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو بھی عمل قرار دیا وَقَالَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ اور فرمایا: اس کی کوئی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہ پڑھی۔الْكِتَابِ۔٧٥٣٤ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا :۷۵۳۴ سلیمان نے مجھ سے بیان کیا کہ شعبہ شُعْبَةُ عَنِ الْوَلِيدِ وحَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ولید سے روایت کی يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ اور عباد بن یعقوب اسدی نے مجھ سے بیان کیا کہ