صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 946
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۴۶ ۹۷- كتاب التوحيد حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأُعْطِيتُمْ تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ سورج غروب قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابِ ہو گیا اور تمہیں دو دو قیراط دیئے گئے۔اہل کتاب هَؤُلَاءِ أَقَلُّ مِنَّا عَمَلًا وَأَكْثَرُ أَجْرًا نے کہا: یہ ہم سے تھوڑا کام کرنے والے ہیں اور قَالَ اللهُ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِّنْ۔ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِكُمْ زیادہ مزدوری لینے والے ہیں۔اللہ نے فرمایا: کیا شَيْئًا قَالُوا لَا فَقَالَ فَهُوَ فَضْلِي میں نے تمہارے حق سے کچھ کم کر کے تمہیں دیا ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں۔تو اللہ نے فرمایا: پھر یہ میر افضل ہے جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ۔أطرافه ٥٥٧ ،۲۲۶۸، ۲۲۶۹، ٣٤٥۹، ٥٠٢١، ٧٤٦٧۔ریح : قُلْ فَأْتُوْا بِالتَّوْرِيةِ فَاتْلُوا اللہ تعلی کا یہ فرمانا تو جہ دے کہ تورات لاؤ اور اُسے پڑھو۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی للہ علم کی ذات پاک ایسی تھی کہ ان کو قرآن کے فہم کے واسطے تو کسی کتاب کی ضرورت نہ تھی مگر تاہم قرآن کو کلام الہی اور جو کچھ قرآن کریم پیش کرتا ہے اس کی تصدیق کے واسطے پھر بھی اور کتاب کی تو ضرورت تھی اور خود قرآن بتلاتا ہے کہ اور کتاب کی ضرورت ہے۔فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی صداقت ثابت کرنے کے واسطے قرآن میں فرماتا ہے کہ ایک اور کتاب میں دیکھو۔پھر لکھا ہے مَكْتُوبًا عِنْدَهُم في التوريةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ۔۔۔مكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيل: گویا دو کتابوں کی ضرورت پڑی۔اس تقریر سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیشگوئیوں وغیرہ اور اپنے دعاوی اور نیز قرآن کی تصدیق کے واسطے دوسری کتابوں کی ضرورت پڑتی رہی۔۔۔اس لئے خوب یاد رکھو کہ قرآن تو اپنی ذات میں ایک کامل کتاب ہے مگر اس کے کمال کو جاننے کے لئے ہم اور کتابوں کے محتاج ہیں۔کبھی لعنت کے کبھی دوسرے علوم کی کتب کے۔اگر کہو کہ اصولِ دین کو اس سے کیا تعلق ہے تو ہم کہتے ہیں قرآن شریف کی تصدیق کرنی بھی تو اصول دین ہے۔