صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 72 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 72

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۷۲ ۸۹ - كتاب الإكراه إِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ کے عوض میں کوئی قیمت پاسکتا ہو تو اس کو بیچ دے نہ تم یہ سمجھ لو کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول أطرافه: ٣١٦٧، ٧٣٤٨- کی ہے۔تشريح۔في بَيْعِ الْمُكْرَةِ وَنَحْوِهِ فِي الْحَقِّ وَغَيْرِهِ : مجبر شخص کی خرید وفروخت نیز اسی قسم کے دوسرے حقوق کے بارہ میں۔امام بخاری معنوان باب اور اس کے تابع روایات سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایک وہ رویہ تھا جو دشمنان اسلام کا تھا۔مسلمانوں کو محض اس جرم میں جبر و ستم کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے ربنا اللہ کہا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہود کو امن اور صلح و سلامتی کی بار بار پیشکش کی بلکہ مدینہ کے متفقہ راہنما کے طور پر اس سوسائٹی کے تمام طبقات سے امن کا معاہدہ کیا اور اس معاہدہ کو ہر ممکن طور پر نبھایا مگر یہودیوں نے عہد شکنی اور غداری کی ہر حد توڑ دی اور بالآخر اپنے کئے کی سزا پا کر جلا وطن ہوئے۔جلاوطنی پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے مال و متاع ساتھ لے جانے یا بیچ کر اس رقم سے فائدہ اُٹھانے کا بھر پور موقع دیا۔یہ ہے رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت جس سے دشمن بھی کبھی محروم نہ رہا۔اللھم صل علی محمد و آل محمد حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہود کی جلاوطنی کا فیصلہ فرمایا تو انہیں اجازت دی گئی کہ وہ جائیداد منقولہ فروخت کر سکتے ہیں۔انہوں نے غداری اور عہد شکنی کر کے مختلف مواقع پر مسلمانوں کی جانوں، مالوں اور عزتوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا تھا اس لئے انہیں سزادی گئی۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۴۳) غداری، بد عہدی کا جرم اس نوعیت کا جرم ہے کہ جس کی سزا اسی دُنیا میں ملنی چاہیئے تا نظام امن بر قرار رہے۔“ ( صحیح بخاری ترجمہ و شرح، کتاب البیوع، شرح باب ۱۰۷، جلد ۴ صفحه ۱۹۵) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ مزید فرماتے ہیں: ”یہودی بھی معاہد تھے لیکن انہوں نے معاہدہ میں بار بار غداری کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے رویہ سے یقین ہو چکا تھا کہ یہ قوم امن پسند مسلمانوں سے خیانت کئے بغیر نہیں رہے گی۔اس لئے آپ نے ان کے لئے وصیت فرمائی اور آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مطابق معاہدہ انہیں نکالنا پڑا اور وہ خود بھی محسوس کرتے تھے کہ اُن کے لئے اسی بات میں امن ہے کہ وہ اس غلامی سے نکل جائیں اور آج کل ہمارے زمانہ میں بھی یہی ہو رہا ہے کہ ایک قوم کے ساتھ ہمسایہ قوم کی عداوت