صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 944 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 944

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۴۴ ۹۷۔کتاب التوحيد بَاب ٤٧ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَيةِ فَاتْلُوهَا (ال عمران: ٩٤) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تو کہہ دے کہ تورات لاؤ اور اُسے پڑھو وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: تورات والوں کو أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا تورات دی گئی اور اس پر انہوں نے عمل کیا اور بِهَا وَأُعْطِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ انجیل والوں کو انجیل دی اور انہوں نے اس پر عمل فَعَمِلُوا بِهِ وَأُعْطِيتُمُ الْقُرْآنَ فَعَمِلْتُمْ کیا اور تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر عمل کیا۔بِهِ۔وَقَالَ أَبُو رَزِينٍ يَتْلُونَهُ حَقَّ البور زین نے کہا: يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاوتِہ۔وہ اس کی تلاوته(البقرة: ۱۲۲) { يَتَّبِعُوْنَهُ وَ } پیروی کرتے ہیں اور جیسا کہ اس پر عمل کرنے کا ١٢٢) يَعْمَلُونَ بِهِ حَقَّ عَمَلِهِ يُقَالُ يُتْلَى حق ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے: يُشلی کے معنی ہیں : اچھی طرح پڑھا جائے یعنی اچھی طرح قرآن کو پڑھا جائے۔لا ہمیشہ کے یہ معنی ہیں کہ يُقْرَأُ حَسَنُ التِّلَاوَةِ حَسَنُ الْقِرَاءَةِ لِلْقُرْآنِ، لَا يَمَسُّهُ لَا يَجِدُ طَعْمَهُ اس کے پڑھنے سے اس کا مزا اور فائدہ حاصل وَنَفْعَهُ إِلَّا مَنْ آمَنَ بِالْقُرْآنِ، وَلَا نہیں کرتے مگر وہی جو قرآن پر ایمان لائے اور يَحْمِلُهُ بِحَقِّهِ إِلَّا الْمُوقِنُ لِقَوْلِهِ تَعَالَی اس کی ذمہ واری کو اٹھانے کا جیسا کہ حق ہے کوئی مَثَلُ الَّذِينَ حَمِلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَم نہیں اُٹھا تا مگر وہی جو کہ یقین کرنے والا ہو تا ہے۔يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے: مَثَلُ الَّذِينَ حُلُوا بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَبُوا بِأَيْتِ الثَّوْرِيةَ _تے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام الله وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ اور ایمان اور نماز کو بھی عمل کے نام سے موسوم (الجمعة: ٦) وَسَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله کیا۔حضرت ابو ہریرہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے (فتح الباری جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۶۳۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " ان لوگوں کی مثال جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی پھر اُسے (جیسا کہ حق تھا) انہوں نے اُٹھائے نہ رکھا، گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھاتا ہے کیا ہی بُری ہے اُن لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔“