صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 943
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۴۳ ۹۷۔کتاب التوحيد وجہ سے آپ کو برداشت کرنی پڑی ہیں۔لکھا ہے کہ جب مکہ کے شریروں اور کفار نے آپ کے پیغام کو نہ سنا تو آپ طائف تشریف لے گئے اس خیال سے کہ ان کو سنائیں اور شاید ان میں کوئی رشید اور سعید ایسا ہو جو اس کو سن لے اور اس پر عملدرآمد کرنے کو تیار ہو جائے۔جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام طائف پہنچے تو آپ نے وہاں کے عمائد سے فرمایا کہ تم میری ایک بات سنو۔لیکن ان شریروں، قی القلب لوگوں نے آپ کا پیچھا کیا اور نہایت سختی کے ساتھ آپ کو رڈ کر دیا۔اینٹیں اور پتھر مارتے جاتے تھے اور آپ آگے آگے دوڑتے جارہے تھے۔یہاں تک کہ آپ بارہ کوس تک بھاگے چلے آئے اور پتھروں سے آپ زخمی ہوگئے۔ان تکالیف اور مصائب کو آپ نے کیوں برداشت کیا؟ آپ خاموش ہو کر اپنی زندگی گزار سکتے تھے پھر وہ بات کیا تھی جس نے آپ کو اس امر پر آمادہ کر دیا کہ خواہ مصیبتوں کے کتنے ہی پہاڑ کیوں نہ ٹوٹ پڑیں لیکن امر الہی کے پہنچانے میں آپ تساہل نہ فرما دیں گے۔قرآن شریف سے ہی اس کا پتہ چلتا ہے۔آپ کو حکم ہو ا تھا: بلغ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ (المائدة: ۶۸) جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسے مخلوق الہی کو پہنچا دے اور فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ (الحجر: ۹۵) جو تجھے حکم دیا جاتا ہے اس کو کھول کھول کر سنا دے۔اس پاک حکم کی تعمیل آپ کا مقصود خاطر تھا اور اس کے لئے آپ ہر ایک آفت اور مصیبت کو ہزار جان برداشت کرنے کو آمادہ تھے۔“ حقائق الفرقان جلد ۲ صفحه ۱۱۶،۱۱۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”جب کسی امر کے متعلق وحی الہی آجاتی ہے تو پھر مامور اس کے پہنچانے میں کسی کی پروا نہیں کرتے اور اس کا چھپانا اسی طرح شرک سمجھتے ہیں جس طرح وحی الہی سے اطلاع پانے کے بغیر کسی امر کی اشاعت شرک سمجھتے ہیں۔اگر وہ اس بات کو جس کی اطلاع وحی الہی کے ذریعہ سے نہیں ملی، بیان کرتا ہے تو گویا وہ سمجھتا ہے کہ اُسے وہ سوجھتا ہے جو خداتعالی کو بھی نہیں سوجھتا اور اس گستاخی سے وہ مشرک ہو جاتا ہے۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۹۲)