صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 942
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۴۲ ۹۷- كتاب التوحيد قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ کہتے أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ قَالَ أَنْ تھے: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کون سا گناہ تَدْعُوَ لِلَّهِ لِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قَالَ ثُمَّ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا: أَيْ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ أَنْ يَطْعَمَ یہ کہ تم اللہ کا ہمسر ٹھہر او حالا نکہ اس نے تم کو مَعَكَ قَالَ ثُمَّ أَيْ قَالَ أَنْ تُزَانِيَ پیدا کیا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ فرمایا: یہ کہ تم اپنی اولاد کو مار ڈالو اس خوف سے کہیں تمہارے حَلِيلَةَ جَارِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهَا وَ الَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلهَا أَخَرَ وَلَا ساتھ کھائے۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ نے يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ فرمایا: یہ کہ اپنے پڑوسی کی جو رو سے تم زنا کرو۔ پھر اللہ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی: وَ لَا يَزْنُونَ ۚ وَ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضْعَفُ لَهُ الْعَذَابُ ( الفرقان: ٦٩) الآية۔ یعنی اور وہ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی جان کو جسے اللہ نے حفاظت بخشی ہو قتل کرتے ہیں سوائے (شرعی) حق کے اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کام کرے گا وہ اپنے گناہ کی جزا کو دیکھ لے گا۔ قیامت کے دن اس کے لئے عذاب زیادہ کیا جائے گا۔ أطرافه: ٤٤٧٧، ٤٧٦١، ٦٠٠١، ٦٨١١، ٦٨٦١ ، ٧٥٢٠۔ تشريح : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى يَأَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَهُ : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اے رسول! تیرے رب کی طرف سے جو (کلام بھی) تجھ پر اُتارا گیا ہے اُسے (لوگوں تک ) پہنچا، اور اگر تُو نے (ایسا) نہ کیا تو (گویا) تو نے اُس کا پیغام (بالکل) نہیں پہنچایا۔ حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی اس پاک کتاب کے پہنچانے میں کیا کیا مصائب اور مشکلات برداشت کیں۔ صلی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک لائف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس پاک کلام کو لوگوں تک پہنچا دینے میں اپنی جان تک کی پروا نہیں کی۔ مکی زندگی جن مشکلات کا مجموعہ ہے وہ سب کی سب اسی ایک فرض کے ادا کرنے کی