صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 940
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۴۰ ۹۷- كتاب التوحيد وَقَالَ مَعْمَرٌ ذلِكَ الْكِتَبُ هَذَا الْقُرْآنُ دھو کہ میں نہ ڈال دے اور معمر نے کہا: ذلِكَ الكتب هُدًى لِلْمُتَّقِينَ بَيَانٌ وَدِلَالَةٌ كَقَوْلِهِ سے مراد یہ قرآن ہے۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ سے مراد تَعَالَى ذلِكُمْ حُكم الله (الحجرات: (۱۱) کھول کر بیان کرنا اور صحیح راستے کا پتہ بتانا ہے جیسا کہ هَذَا حُكْمُ اللهِ لَا رَيْبَ فِيهِ (البقرة: 3) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یعنی یہ اللہ کا حکم ہے۔لا ريب لَا شَكَ، تِلْكَ أَيْتُ الله (البقرة: ٢٥٣) فیه کے معنی ہیں: کوئی شک نہیں۔تِلكَ ایت الله يَعْنِي هَذِهِ أَعْلَامُ الْقُرْآنِ وَمِثْلُهُ سے یہ مراد ہے کہ یہ قرآن کے نشانات ہیں اور إذَا كُنتُم فِي الْفُلْكِ وَجَدَيْنَ اسی طرح یہ بھی آیت ہے: حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ - یعنی (بھم سے مراد ) بهم (یونس:۲۳) يَعْنِي بِكُمْ۔وَقَالَ پکھ ہے۔حضرت انس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَنَسٌ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اپنے ماموں حضرت حرام کو ان کی اپنی قوم خَالَهُ حَرَامًا إِلَى قَوْمِهِ وَقَالَ أَتُؤْمِنُونِي کی طرف بھیجا اور کہا: کیا تم مجھے امن دو گے کہ أُبَلِّغُ رِسَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا دوں ؟ پھر وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ۔ان سے باتیں کرنے لگے۔٧٥٣٠: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ ۷۵۳۰: فضل بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ عبد الله بن جعفر رقی نے ہمیں بتایا۔معتمر بن سلیمان الرَّقِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن عبید اللہ ثقفی نے حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ ہمیں بتایا۔بکر بن عبد اللہ مزنی اور زیاد بن جبیر حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ (بن) حیہ ) نے ہم سے بیان کیا۔ان دونوں نے جبیر وَزِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ ابْنِ حَيَّةَ عَنْ بن حیہ سے روایت کی کہ حضرت مغیرہ نے کہا: جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ قَالَ الْمُغِيرَةُ أَخْبَرَنَا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے رب کے نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ پیغام کی بنا پر ہمیں یہ خبر دی ہے کہ ہم میں سے وو ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ خوشگوار ہواؤں کی مدد سے اُنہیں لئے ہوئے چلتی ہیں۔“