صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 939
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳۹ ۹۷- كتاب التوحيد کی ہے جو اپنے تئیں ہمیشہ وحدہ لاشریک دیکھنا چاہتا ہے۔پس ایک قسم کی بد استعمالی سے یہ عمدہ صفت قابل نفرت ہو گئی ہے ورنہ اس طرح پر یہ صفت مذموم نہیں کہ کمال میں سب سے زیادہ سبقت چاہے اور روحانیت میں تفرد اور یکتائی کے درجہ پر اپنے تئیں دیکھنا چاہے۔“ (نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸۹، ۳۹۰) بَاب ٤٦ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلُ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَهُ (المائدة: ٦٨) ط اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اے رسول! تیرے رب کی طرف سے جو (کلام بھی) تجھ پر اُتارا گیا ہے اُسے (لوگوں تک پہنچا، اور اگر تُو نے (ایسا) نہ کیا تو(گویا) تو نے اس کا پیغام (بالکل) نہیں پہنچایا وَقَالَ الزُّهْرِيُّ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ اور زُہری نے کہا: اللہ عز وجل کی طرف سے الرِّسَالَةُ وَعَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله رسالت ہوتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا التَّسْلِيمُ کے ذمہ پیغام کا پہنچانا ہو تا ہے اور ہمارے ذمہ مانتا وَقَالَ: لِيَعْلَم أَن قَد اَبلَغُوا رِسالت ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یعنی تا کہ اللہ ربهم (الجن: ۲۹) وَقَالَ تَعَالَى أَبَلِّغُكُم جان لے کہ ان رسولوں نے اپنے رب کے پیغام کو لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رسلت رَبِّي (الاعراف: ٦٣) وَقَالَ یعنی ( اور ) تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچا تا ہوں۔كَعْبُ بْنُ مَالِكِ حِينَ تَخَلَّفَ عَنِ اور حضرت کعب بن مالک نے کہا، جب وہ نبی صلی النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَرَى اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے (تو اللہ تعالیٰ نے الله عَمَلَكُمْ وَ رَسُولُه (التوبة: ٩٤) فرمایا:) اور عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمہارے وَقَالَتْ عَائِشَةُ إِذَا أَعْجَبَكَ حُسْنُ عمل کو دیکھ لیں گے۔حضرت عائشہ کہتی تھیں: جب عَمَلِ امْرِئٍ فَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَی کسی شخص کے کام کی خوبی تمہیں پسند آئے تم کہو: الله عَمَلَكُمْ وَ رَسُولُه وَ الْمُؤْمِنُونَ کئے جاؤ عنقریب اللہ اور اس کا رسول اور تمام (التوبة: ١٠٥) وَلَا يَسْتَخِفَنَّكَ أَحَدٌ مؤمن تمہارے عمل کو دیکھ لیں گے اور کوئی تمہیں