صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 938
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳۸ ۹۷- كتاب التوحيد بولیوں اور رنگوں کا اختلاف ہے۔ در حقیقت خدا شناسی کے لئے یہ بڑے نشان ہیں مگر ان کے لئے جو اہل علم ہیں۔ اب دیکھو کہ کسی قدر تحقیق السنہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کو خداشناسی کا مدار ٹھہرا دیا ہے۔“ من الرحمن، روحانی خزائن جلد ۹، حاشیه صفحه ۱۶۳، ۱۶۴) لَا تَحَاسُدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رشک نہیں کرنا چاہئیے مگر دو شخصوں کے متعلق۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: انسانی اخلاق خدا کے اخلاق کا پر توہ ہیں۔ جب خدا نے روحوں کو پیدا کیا تو جس طرح باپ کے اخلاق کا بیٹوں میں اثر آ جاتا ہے ایسا ہی بندوں میں اپنے خدا کا اثر آ گیا۔۔۔ خدا نے جو انسان کو اپنی طرف بلایا ہے اس لئے اس نے پہلے سے پرستش اور عشق کے مناسب حال قوتیں اس میں رکھ دی ہیں۔ پس وہ قوتیں جو خدا کی طرف سے ہیں خدا کی آواز کو ٹن لیتی ہیں۔ اسی طرح جب خدا نے چاہا کہ انسان خدا کی معرفت میں ترقی کرے تو اس نے پہلے سے ہی انسانی روح میں معرفت کے حواس پیدا کر رکھے ہیں اور اگر وہ پیدا نہ کرتا تو پھر کیونکر انسان اس کی معرفت حاصل کر سکتا تھا۔ انسان کی روح میں جو کچھ ہے دراصل خدا سے ہے اور وہ خدا کی صفات ہیں جو انسانی آئینہ میں ظاہر ہیں ان میں سے کوئی صفت بری نہیں بلکہ ان کی بد استعمالی اور ان میں افراط تفریط کر نا برا ہے شاید کوئی جلدی سے یہ اعتراض کرے کہ انسان میں حسد ہے، بغض ہے اور دوسری صفات ذمیمہ ہوتے ہیں پھر وہ کیونکر خدا کی طرف سے ہو سکتے ہیں پس واضح رہے کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں در اصل تمام انسانی اخلاق الٰہی اخلاق کا ظل ہیں کیونکہ انسانی روح خدا سے ہے لیکن کمی یا زیادتی یا بد استعمالی کی وجہ سے وہ صفات ناقص انسانوں میں مکروہ صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً حسد انسان میں ایک بہت برا خلق ہے جو چاہتا ہے کہ ایک شخص سے ایک نعمت زائل ہو کر اس کو مل جائے لیکن اصل کیفیت حسد کی صرف اس قدر ہے کہ انسان اپنے کسی کمال کے حصول میں یہ روا نہیں رکھتا کہ اس کمال میں اُس کا کوئی شریک بھی ہو پس در حقیقت یہ صفت خدا تعالیٰ