صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 937
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳۷ ۹۷- كتاب التوحيد آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ کے متعلق ہی۔ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن اللهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَ کا علم دیا ہو اور اور وہ اسے رات کے اوقات میں آنَاءَ النَّهَارِ۔سَمِعْتُ سُفْيَانَ مِرَارًا بھی اور دن کے اوقات میں بھی پڑھتا ہو اور ایک لَمْ أَسْمَعْهُ يَذْكُرُ الْخَبَرَ وَهُوَ مِنْ وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو وہ اسے رات کے اوقات میں بھی اور دن کے اوقات میں بھی خرچ کرتا ہو۔( علی بن عبد اللہ نے کہا : ) میں نے سفیان سے کئی بار یہ سنا میں نے ان کو (لفظ أَخْبَرَنَا یا حَدَّثَنَا کے ساتھ ) ذکر کرتے نہیں سنا کہ زہری نے یہ خبر دی اور باوجود اس کے یہ ان کی صحیح صَحِيحِ حَدِيثِهِ۔طرفه ٥٠٢٥- حدیثوں میں سے ہے۔تشريح۔قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ۔۔بي صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن دیا ہو اور وہ رات دن اس پر عمل کرتا ہے۔ولی اللہ محدث دہلوی کتاب التوحید کے اس عنوان کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ معنونہ الفاظ "رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ القُرآن“ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بندے کو قرآن کریم دیتا ہے ( یعنی اس کا علم و عرفان عطا فرماتا ہے ) تو وہ اس کو پڑھتا اور اس پر عمل کرتا ہے۔“ در عمل کرتا ہے۔“ (رسالة شرح تراجم ابواب صحیح البخاری لشاہ ولی الله المحدث الدهلوي، كتاب الردّ على الجهمية، باب قول النبي رجل آتاه الله القرآن فهو يقوم به) وَ مِنْ أَلَتِهِ خَلْقُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ الْسِنَتِكُمْ وَالْوَانِكُم : اور اس کے نشانات میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف بھی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بولیوں کی تحقیق کی طرف توجہ دلانے والا بجز قرآن کریم کے اور کوئی دنیا میں ظاہر نہیں ہوا۔اسی پاک کلام نے یہ فرمایا: وَ مِنْ أَيْتِهِ خَلْقُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَ اخْتِلَافُ الْسِنَتِكُمْ وَالْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةٍ لِلْعَالِمِينَ (سوره روم) یعنی خدا تعالیٰ کی ہستی اور توحید کے نشانوں میں سے زمین آسمان کا پیدا کرنا اور (الروم : ۲۳) ط