صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 935 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 935

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳۵ ۹۷- كتاب التوحيد بہت خبر دار ہے۔ وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا اور تو اپنے دعائیہ کلمات اونچی آواز سے نہ کہا کر اور نہ انہیں (بہت) آہستہ کہا کر۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا - صلوة کے معنی نماز کے بھی ہوتے ہیں۔ اور دعا کے بھی۔ اس جگہ چونکہ دعا کا ذکر ہے اس لئے دعا ہی کے معنے زیادہ مناسب ہیں۔ فرمایا۔ اپنی دعا بہت بلند آواز سے نہ مانگا کرو اور نہ ہی بالکل دھیمی بلکہ درمیان کاراستہ اختیار کرو۔ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چند صحابہ کے پاس سے گزرے تو آپ نے دیکھا کہ وہ پکار پکار کر دعا کر رہے تھے۔ آپ نے ان کو منع فرمایا اور کہا کہ تمہارا خدا بہرہ نہیں ، اس قدر اونچے پکارتے ہو وہ تو چیونٹی کے چلنے کی آواز کو بھی سنتا ہے ۔ قرآن مجید نے بالکل آہستہ دعا کرنے سے بھی منع کیا ہے۔ کیونکہ اس سے توجہ قائم نہیں رہتی۔ دعا اس طرح کرنی چاہئیے کہ انسان کو کلمات زبان سے نکلتے ہوئے محسوس ہوں تاکہ اس کی توجہ بھی قائم رہے۔ غرض دعا بہت بلند آواز سے مانگنے سے تو خداتعالیٰ کی شان کو مد نظر رکھتے ہوئے منع فرمایا ہے اور نہایت آہستہ دعا مانگنے سے انسان کی کمزوری کو مد نظر رکھتے ہوئے منع فرمایا ہے۔ (تفسیر کبیر، جلد ۴ صفحہ ۴۰۱) - بَاب ٤٥ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ يَقُولُ لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا فَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ فَبَيَّنَ أَنَّ قِيَامَهُ بِالْكِتَابِ هُوَ فِعْلُهُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن دیا ہو اور وہ رات دن اس پر عمل کرتا ہے اور ایک وہ شخص جو یہ کہے : کاش اگر مجھے بھی ویسا ہی دیا جائے جو اس شخص کو دیا گیا تو میں بھی ویسے ہی کروں جیسے یہ کرتا ہے پس آپ نے بیان کیا کہ اس کا کتاب اللہ پر قائم ہونا اُس کا فعل ہے۔ وَقَالَ وَمِنْ أَيْتِهِ خَلْقُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اس کے نشانات میں