صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 934 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 934

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳۴ ۹۷- كتاب التوحيد (بنی اسرائیل: ۱۱۱) عَنْ أَصْحَابِكَ پڑھو ورنہ مشرک سنیں گے اور قرآن کو بُرا بھلا فَلَا تُسْمِعُهُمْ وَابْتَغِ بَيْنَ ذلِكَ سَبِيلاً کہیں گے اور نہ اپنے ساتھیوں سے اتناد ھیما پڑھو (بنی اسرائیل: ۱۱۱)۔کہ تو ان کو سنائے بھی نہ۔وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ أطرافه ٤٧٢٢، ٧٤٩٠، ٧٥٤٧۔سبيلا - یعنی اس کے درمیان کی راہ اختیار کر۔٧٥٢٦: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۷۵۲۶ عبيد بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ لَا تُخَافِتْ بِهَا ( بنى اسرائيل: ۱۱۱) في کہتی تھیں: یہ آیت کہ وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَلَا الدُّعَاءِ۔أطرافه: ٤٧٢٣، ٦٣٢٧ - تُخَافِتْ بِهَا دعا کے متعلق نازل ہوئی تھی۔٧٥٢٧: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا :۷۵۲۷: اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عاصم أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا نے ہمیں بتایا۔ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہ ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا۔ابن شہاب نے أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ابوسلمہ سے، ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم میں سے وہ نہیں جو قرآن لَّمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ۔وَزَادَ غَيْرُهُ يَجْهَرُ کو خوش الحانی سے نہ پڑھے۔اور حضرت ابو ہریرہ کے سوا اوروں نے یہ الفاظ بڑھائے کہ جو اس کو بلند آواز سے نہ پڑھے۔تشریح : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيْرُ اللَّہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور (اے لوگو ) تم اپنی بات کو چھپاؤ یا ظاہر کرو، وہ (خدا) دلوں کی بات کو بھی خوب جانتا ہے۔کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ جس نے پیدا کیا ہو وہی اندر کے حال نہ جانے، حالانکہ وہ مخفی سے مختفی رازوں کا واقف اور