صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 933
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳۳ ۹۷- كتاب التوحيد باب ٤٤ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَاسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ، وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الملك: ١٤، ١٥) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور (اے لوگو ) تم اپنی بات کو چھپاؤ یا ظاہر کرو، وہ (خدا) دلوں کی بات کو بھی خوب جانتا ہے۔کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ جس نے پیدا کیا ہو وہی اندر کے حال نہ جانے ، حالانکہ وہ مخفی سے مخفی رازوں کا واقف اور بہت خبر دار ہے يَتَخَافَتُونَ (طه: ١٠٤) يَتَسَارُونَ۔يَتَخَافَتُون سے مراد یہ ہے کہ وہ چپکے سے آپس میں راز کی باتیں کرتے ہیں۔(بنی اسرائیل: ۱۱۱) قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ لا مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ ٧٥٢٥ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ :۷۵۲۵ عمرو بن زرارہ نے مجھ سے بیان کیا۔زُرَارَةَ عَنْ هُشَيْمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ انہوں نے ہشیم سے روایت کی کہ ابو بشر نے سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ہمیں خبر دی۔ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا تعالیٰ کے اس قول وَ لَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا کے متعلق روایت کی، کہا: یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مخفی رہتے تھے۔تو آپ جب اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے ہوئے قرآن پڑھنے بِالْقُرْآنِ فَإِذَا سَمِعَهُ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا میں اپنی آواز کو بلند کرتے، مشرک آپ کی آواز الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ سے تو قرآن کو بُرا بھلا کہتے اور اس کو بھی جس اللهُ لِنَبِيهِ لا وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ نے اس کو نازل کیا اور اس کو بھی جو اسے لایا۔أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ اس لئے اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ یعنی اپنی قرآت کو اونچا نہ فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ