صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 932
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳۲ ۹۷- كتاب التوحيد کہ امام ابن حجر اور دیگر شارحین نے بھی بجھا کے متعلق سیبویہ کا مذہب نقل کر کے اس مفہوم کو مثالوں سے واضح کیا ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۰) ( صحیح البخاری، ترجمه و شرح، کتاب بدء الوحی، باب ۴، جلد ا، صفحه ۱۷،۱۶) حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آنحضرت علی الم کے ایک اور معجزہ کا ذکر ہے۔اتنی بڑی کتاب قرآن کریم تئیس برسوں میں نازل ہوئی اور نزول کے وقت آپ اس فکر میں کہ میں اسے فراموش نہ کر دوں، اپنی زبان کو تیزی سے حرکت دیتے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو یقین دلایا کہ ہم ہی نے یہ قرآن نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کو جمع کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔پس ایک اُقی پر تئیس سال میں نازل ہونے والا قرآن بحفاظت جمع کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس امر کو ایک عظیم الشان معجزہ قرار دیتے ہیں کہ اس تئیس سالہ عرصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دشمن نے ہر طرح سے حملے کئے اور آپ کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔اگر کچھ قرآن نازل ہونے کے بعد ہی نعوذ باللہ آپ کو دشمن ہلاک کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو قرآن کے ایک کامل کتاب ہونے کا دعویٰ نعوذ باللہ باطل اور بالکل بے معنی ہو جاتا۔“ ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورة القيامة، صفحہ ۱۱۰۲) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آیت باب ذوالمعارف ہے اس کے دو ترجمے ہیں۔ربط ما قبل کے لحاظ سے ایک معنے یہ ہیں کہ "اے معذرت کنندہ۔عذر بیان کرنے میں تیز زبانی نہ کر “ اس صورت میں جمعہ میں ڈا کی ضمیر انسان کے اعمال کی طرف ہے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ پڑھنے والا جب قرآن شریف پڑھے تو جلدی نہ کرے۔۔جمع تو اللہ تعالیٰ کی پسند کی ہوئی ترتیب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے فرمایا تھا اور اسی پسندیدہ ترتیب کے ساتھ ہم تک پہنچایا گیا۔ہاں اس کا پڑھنا اور جمع کرنا ہم سب کے ذمہ ہے۔“ (حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحہ ۲۷۲)