صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 931
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳۱ ۹۷- كتاب التوحيد امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے یہ روایت سنی، وہ بھی ثقہ ہیں۔(عمدۃ القاری جزء اول صفحه ۷۰) گو تابعین میں سے اس روایت کو حضرت ابن عباس سے بلا واسطہ بیان کرنے والے سوائے سعید بن جبیر کے اور کوئی نہیں اور نہ صحابہ میں سے حضرت ابن عباس کے سوا کسی صحابی نے یہ روایت کی ہے مگر یہ دونوں راوی بہت پایہ کے انسان ہیں اور یہ احتمال کہ ممکن ہے، ابو عوانہ نے نقل میں الفاظ کم و بیش کر دیئے ہوں۔ایک حد تک اس طرح رفع ہو جاتا ہے کہ موسیٰ بن ابی عائشہ سے ابو عوانہ کے سوائے اور وں نے بھی اس کو نقل کیا۔مثلاً سفیان بن عیینہ اور اسرائیل اور جریر نے۔چنانچہ امام بخاری نے کتاب التفسیر میں زیر آیات مذکورہ بالا حمیدی اور عبید اللہ بن موسیٰ اور قتیبہ بن سعید کی سند سے روایتیں ان تین راویوں سے نقل کی ہیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۴۹۲۷، ۴۹۲۸، ۴۹۲۹) اور انہوں نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، اور وہ سعید بن جبیر سے ، اور سعید نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے اسے نقل کیا ہے۔گو لفظوں اور معانی میں کمی بیشی ضرور ہے۔مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ اصول روایت کے اعتبار سے اس کی صحت میں خلل ہے اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی حالت کبھی طاری نہیں ہوئی۔اس لئے محققین نے باوجود انتقاد کے اس روایت کو قبول کیا ہے۔ان روایتوں سے کم از کم یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت نزول وحی کے وقت تبدیل ہو جایا کرتی تھی اور جسمانی علائق سے جو عارضی طور پر انقطاع واقع ہو تا اس سے آپ کو غیر معمولی تکلیف ہوتی جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ بات بھی روحانی مشاہدات میں یقینی ہے کہ تجلی کوحی کی ایک ایسی حالت بھی ہوتی ہے جس میں زبان بغیر کسی محرک کے خود بخود حرکت کرنی شروع کر دیتی ہے اور جو الفاظ اس پر جاری ہوتے ہیں۔وہ علم غیب پر مشتمل ہوتے ہیں۔وَمِمَّا يُحرك بِهِ شفقیہ کی نحوی ترکیب سے ظاہر ہے کہ یہ حالت آپ پر کبھی کبھی وارد ہوتی۔جیسا