صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 930
صحيح البخاری جلد ١٦ ۹۳۰ ۹۷- كتاب التوحيد : تشريح : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ به: اللہ تعالی کایہ فرانا یعنی اے نبی) تو اپنی زبان کو حرکت نہ دے تا کہ یہ قرآن جلدی نازل ہو جائے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: رض اس روایت پر محققین نے ایک اعتراض وارد کیا ہے کہ لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ کی آیت جو سورۃ القیامہ میں ہے اس ابتدائی وحی میں سے ہے جو مکہ میں نازل ہوئی جبکہ حضرت عبد اللہ بن عباس پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ کیونکہ ان کی پیدائش ہجرت سے تین سال قبل ہوئی تو حضرت عبد اللہ بن عباس کو یہ کیسے علم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہونٹ ہلایا کرتے تھے اور انہوں نے سعید ابن جبیر کو بڑے وثوق سے اپنے ہونٹ ہلا کر دکھلائے کہ یوں ہلایا کرتے تھے۔ پھر علاوہ ازیں یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لا تحرك به لسانك کے حکم کے بعد خاموش ہو کر سنتے اور اپنے ہونٹ نہ ہلاتے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا صحابہ نے انہیں بتلایا تھا تو پھر انہوں نے اس کا ذکر کیوں نہیں کیا ؟ علاوہ ازیں یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے پایہ اعتبار سے ساقط ہے۔ مگر باوجود اس اعتراض اور سقم کے علامہ ابن حجر اور عینی اور قسطلانی جیسے محققین نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے یہ ضرور سنا اور حضرت ابن عباس نے انہیں ہونٹ ہلا کر دکھلائے۔ (فتح الباری جزء اول صفحه ۴۰۔ عمدة القاری جزء اول صفحہ ۷۳۔ شرح البخاری للقسطلانی جزء اول صفحہ ۶۹) کیونکہ سعید بن جبیر علم و تقویٰ میں ، اں بہت بڑے مقام پر۔ مقام پر تھے اور ایک امام مانے گئے ہیں اور موسیٰ بن ابی عائشہ بھی ثقہ ہیں اور ابو عوانہ بھی نہایت سچے راوی تسلیم کئے گئے ہیں، سوائے اس کے کہ ان کا حافظہ کمزور تھا۔ جس کی وجہ سے وہ روایات کو لکھ لیا کرتے تھے۔ اگر وہ اپنے حافظہ کی بناء پر کوئی روایت کرتے تو مفہوم میں کمی بیشی ہو جاتی لیکن تحریری روایت میں پوری صحت مد نظر رکھتے تھے۔ وَإِذَا حَدَّكَ مِنْ حِفْظِهُ غَلَطَ كَثِيرًا - ابوسلمہ موسیٰ بن اسمعیل منقری جن سے