صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 929
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۲۹ ۹۷ - كتاب التوحيد يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً وَكَانَ سے سخت تکلیف اٹھایا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔حضرت ابن عباس نے يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ مجھ سے کہا: میں تمہیں ہونٹ اس طرح ہلا کر أُحَرِّكُهُمَا لَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُحَرِّكُهُمَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا بهه إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرانَهُ (القيامة:۱۸،۱۷) قَالَ جَمْعُهُ فِي دکھاتا ہوں جس طرح رسول الله ل ل ا ل ل ل و م ہو نہ ہلایا کرتے تھے۔سعید نے کہا: میں ہونٹ اس أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ طرح ہلا تا ہوں جس طرح حضرت ابن عباس يُحَرِّكُهُمَا فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللهُ نے ہلایا اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہونٹ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُحَرِكَ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ ہلائے۔تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی: (اے نبی) تو اپنی زبان کو حرکت نہ دے تاکہ یہ قرآن جلدی نازل ہو جائے۔اس کا جمع کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے اور اس کا دنیا کے سامنے سنانا صَدْرِكَ ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبِعُ بھی (ہمارے ذمہ ہے)۔حضرت ابن عباس نے قُرانَة (القيامة : ١٩) قَالَ فَاسْتَمِعْ لَهُ :کہا: جَمْعُهُ مراد ہے کہ آپ کے سینے میں اس کو وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ قَالَ محفوظ کرنا۔پھر اس کے بعد تم اسے پڑھو اور فاذا فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ لا إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ قرآنهُ فَاتَّبِعُ قُرانَہ۔پس جب ہم اسے پڑھ لیا کریں تو ہمارے پڑھنے کے بعد تو بھی پڑھ لیا کر) عَلَيْهِ السَّلَامُ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ حضرت ابن عباس نے کہا: اس کو غور سے سنو اور جبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ لا كَمَا أَقْرَأَهُ خاموش رہو۔پھر ہمارے ہی ذمہ ہو گا کہ تو اس کو پڑھے۔حضرت ابن عباس نے کہا: چنانچہ رسول الله صلى اللم جب جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آتے تو غور سے سنتے۔جب جبریل چلے جاتے تو نبی صلی ا ولم اسی طرح پڑھتے جس طرح جبریل نے آپ کو پڑھایا ہوتا۔أطرافه ۵، ۱۹۲۷، ۴۹۲۸، ٤٩۲۹، ٥٠٤٤۔