صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 928
صحیح البخاری جلد ۱۶ اور ۹۲۸ ۹۷- كتاب التوحيد طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں۔ کبھی انسان خدا کے صفات جلالیہ استغناء ذاتی کے پرتوہ کے نیچے ہوتا ہے اور کبھی صفات جمالیہ کا پر توہ اس پر پڑتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شأن (الرحمن : ۳۰) (چشمه سیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰، صفحه ۳۶۹) نیز فرمایا: وہ اور اس کی صفات قدیم ہی سے ہیں مگر اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ ہر ایک صفت کا علم ہم کو دیدے اور نہ اس کے کام اس دنیا میں سما سکتے ہیں۔ خدا کے کلام میں دقیق نظر کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ہے اور مخلوقات کی ترتیب اس کے ازلی ہونے کی مخالف نہیں ہے۔“ ( ملفوظات، جلد ۳، صفحہ ۷۰) بَاب ٤٣ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (القيامة: ١٧) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: (اے نبی) تو اپنی زبان کو حرکت نہ دے تا کہ یہ قرآن جلدی نازل ہو جائے وَفِعْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا کرنا جبکہ آپؐ پر وحی حِينَ يُنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ۔ نازل کی جارہی ہوتی۔ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اور حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللهُ تَعَالَى أَنَا نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنے بندے مَعَ عَبْدِي إِذَا ذَكَرَنِي وَتَحَرَّكَتْ بِي کے ساتھ ہوتا ہوں جہاں بھی وہ مجھے یاد کرے اور میرے نام سے اس کے ہونٹ ہلیں۔ شَفَتَاهُ۔ ٧٥٢٤: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۷۵۲۴: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن ابی حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُّوسَى بْنِ أَبِي عائشہ سے ، موسیٰ نے سعید بن جبیر سے ، سعید نے عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ حضرت ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے قول لا عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى لَا تُحَرِّكُ بِهِ تُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَكَ کے متعلق روایت کی۔ حضرت لسانك (القيامة: ١٧) قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ابن عباس نے کہا : نبی صلی الم وحی کے نازل ہونے