صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 927
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۲۷ ۹۷- كتاب التوحيد مراد زمانہ نبوت ہے اور سماء سے قرآن کریم مراد ہے کیونکہ قرآن کریم کا نام صحف مرفوعہ بھی آیا ہے اور سماء بھی بلندی کا نام ہے۔پس اس روحانی آسمان کو بھی سماء کہہ سکتے ہیں اور اس کے لئے صفت حیی و قیوم کو استعمال کیا گیا ہے۔یہ ثبوت کہ قرآن حیمی و قیوم کی صفات کی بنیاد پر ہے قرآن سے بھی اور حدیث سے بھی ملتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ قرآن کریم کی کونسی آیت سب سے بڑی ہے تو آپ نے فرمایا: آیت الکر سی۔اور آیت الکرسی کی بنیاد حی و قیوم پر ہے۔یہ روایت اُبی بن کعب، ابن مسعود، ابوذر غفاری، ابوہریرہ اور چار پانچ صحابہ سے مروی ہے اور اکثر کتب حدیث میں ہے۔اعظم آیتہ سے مراد اور حقیقت یہی ہے کہ یہ آیت منبع ہے قرآن کا۔ورنہ سب آیات ہی اعظم ہیں۔اور منبع اسی آیت کو کہہ سکتے ہیں جو بطور اتم کے ہو۔یعنی اس میں وہ بات ہے جو قرآن کریم کو دوسری کتب سے بطور اصول کے ممتاز کرتی ہے۔چنانچہ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آیت الکرسی میرے سوا اور کسی نبی کو نہیں ملی۔یوں تو قرآن کریم کی کوئی آیت بھی کسی اور نبی کو نہیں دی گئی مگر آیت الکرسی کے نہ دیئے جانے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے اندر جو صفات ہیں ان کے ماتحت کسی اور نبی پر کلام نازل نہیں ہوا۔اور وہ صفات حی و قیوم کی ہی ہیں۔چنانچہ سورۃ آل عمران میں خدا تعالیٰ کی ان ہر دو صفات کو بیان کر کے قرآن کے نازل ہونے کا ذکر ہے۔جیمی کے معنے ہوتے ہیں زندہ اور زندہ رکھنے والا اور قیوم کے معنے ہیں قائم اور قائم رکھنے والا۔پس فرمایا یہ کتاب اس خدا کی طرف سے اتری ہے جو زندہ اور زندہ رکھنے والا ہے۔یعنی یہ کلام ہمیشہ زندہ اور زندگی بخش رہے گا اور پھر یہ کتاب اس خدا کی طرف سے اتری ہے جو قائم اور قائم رکھنے والا ہے۔پس اس کتاب کو بھی وہ ہمیشہ قائم رکھے گا۔“ (فضائل القرآن نمبر ۳، انوار العلوم جلد ۱۱ صفحه ۶۱۴،۶۱۳) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یاد رہے کہ جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت یہ نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اسی