صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 926 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 926

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۲۶ ۹۷- كتاب التوحيد الَّذِي أَنْزَلَ اللهُ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى پوچھتے ہو جبکہ تمہاری کتاب جو اللہ نے تمہارے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللهِ في صلى اللہ علیہ وسلم پر نازل کی، اللہ کے متعلق مَحْضًا لَمْ يُشَبْ وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللهُ سب سے نئی خبریں دینے والی ہے (موجود ہے) أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ بَدَّلُوا مِنْ كُتُبِ خالص ہے اُس میں کوئی ملونی نہیں کی گئی اور اللہ اللَّهِ وَغَيَّرُوا فَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمْ قَالُوا هُوَ بتا بھی چکا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں مِنْ عِنْدِ اللهِ لِيَشْتَرُوا بِذَلِكَ ثَمَنًا میں تبدیلی کر دی ہے اور انہیں کچھ سے کچھ کر دیا قَلِيلًا أَوَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِّنَ ہے اور اپنے ہاتھوں سے انہیں لکھا اور کہہ دیا کہ الْعِلْمِ عَنْ مَّسْأَلَتِهِمْ فَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا یہ اللہ کے پاس سے ہے تا کہ اس ذریعہ سے تھوڑی سی قیمت لیں۔جو علم تمہارے پاس آیا ہے، کیا یہ تمہیں ان کے پوچھنے سے نہیں روکتا ؟ اللہ کی قسم! ہم نے ان میں سے کبھی بھی کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس کتاب کے متعلق پوچھتا ہو جو تم پر نازل کی گئی۔رَجُلًا مِّنْهُمْ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ أطرافه ٢٦٨٥، ٧٣٦٣، ٧٥٢٢-۔ریح : الله کایہ فرمانا وہ ہوتا مُحلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا وہ ہر وقت ایک نئی حالت میں ہوتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مختلف انبیاء کے کلام مختلف صفات الہیہ کے ماتحت نازل ہوتے رہے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَان یعنی ہر زمانہ نبوت میں اللہ تعالیٰ کا کلام نئی صفات کے ماتحت نازل ہوتا ہے۔اس جگہ یوم سے مراد نبوت کا زمانہ ہے۔جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے: يُدبِرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةٌ اَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (السجدة: 1) یعنی اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین تک اپنے حکم کو اپنی تدبیر کے مطابق قائم کرے گا اور پھر وہ اس کی طرف ایک ایسے وقت میں چڑھنا شروع کرے گا جس کی مقدار ایسے ہزار سال کی ہے جس کے مطابق تم دنیا میں گنتی کرتے ہو۔پس یوم سے