صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 923 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 923

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۲۳ ۹۷۔کتاب التوحيد پر نٹنگ“ کہا جاتا ہے۔ڈی این اے کی اس خصوصیت کو بچوں کے والدین کی شناخت ، حادثات اور مجرموں کی پہچان میں استعمال کیا جاتا ہے۔انسانی جسم کا آغاز صرف ایک خلیے زائیگوٹ سے ہوتا ہے۔جو ماں اور باپ کی طرف سے آنے والے ایک ایک سپرم اور بیضے Sperm & Egg) کے مدغم ہونے سے بنتا ہے۔یہ زائیگوٹ تقسیم در تقسیم ہو کر کھربوں خلیوں پر پر مشتمل ایک انسان بناتا ہے۔خلیے کی تقسیم کے ساتھ ساتھ ڈی این اے بھی کاپی (Replicate) ہو کر ہر نئے بننے والے خلیے میں چلا جاتا ہے۔ڈی این اے کی کاپی تیار کرنے کا یہ نظام اتنا پیچیدہ اور حیرت انگیز ہے کہ عام حالات میں کا پیاں تیار کرتے ہوئے اربوں مالیکیولز میں سے ایک کی ترتیب بھی خراب نہیں ہوتی۔کسی چھوٹی سی بھی غلطی کا نتیجه خطرناک بیماری ، معذوری یا جسمانی اعضاء کی تبدیلی کی صورت میں نکلتا ہے۔بروز حشر اعضاء کس طرح گواہی دیں گے اس کا ایک چھوٹا سا عملی نمونہ ہم اپنی زندگی میں تب دیکھتے ہیں جب کسی ملزم کو ڈی این اے کی گواہی کی بناء پر عدالت مجرم قرار دے کر سزا دیتی ہے۔ڈی این اے ایک نہایت ہی وسیع اور ٹیکنیکل موضوع ہے جس کا احاطہ چند صفحات پر کرنا ممکن نہیں۔یہ معلومات نہایت اختصار کے ساتھ سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔حضرت انسان اب تک صرف ۲۰ فیصد ڈی این اے کو ہی سمجھ پایا ہے، باقی کے ۸۰ فیصد ڈی این اے میں خالق کائنات نے کون کون سے اسرار و رموز رقم کر رکھے ہیں یہ ابھی ہم نہیں جانتے۔انسان کا بنایا چھوٹا سا سافٹ ویئر اگر اس کا حساب کتاب رکھ سکتا ہے تو پوری کائنات کے خالق کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی مخلوق سے خود اس کی زبان کو اسی کے خلاف گواہ بنادے۔فَتَبرَكَ 66 اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ (روز نامہ الفضل لندن، مضمون بعنوان "پور پور گواہی دے گی“ مورخہ ۴ ستمبر ۲۰۲۱) ، حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "قیامت کے دن جو انسان کی جواب طلبی ہو گی وہ محض فرشتوں کی گواہی کے مطابق نہیں ہوگی بلکہ ہر انسان کے بدن کے اعضاء بھی اپنے جرائم کا اقبال