صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 922
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۲۲ ۹۷۔کتاب التوحيد ڈی این اے کا ایک مکمل سلسلہ ہوتا ہے جس کی تعداد تین ملین جوڑوں کی صورت میں ہوتی ہے۔اگر ان کو ڈز کو لکھنے بیٹھیں اور پنار کے ہر منٹ میں ۶۰ الفاظ ٹائپ کریں تو تمام کو ڈز لکھنے میں ۹۵ سال لگ جائیں گے۔ہمارے جسم کے ایک خلیے کو اپنی کاپی بنانے میں ۸ گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔قدرت کی صناعی دیکھیے کہ اتنا پیچیدہ اور مفصل ہونے کے باوجود ہر شخص کا ڈی این اے دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے انسانی جسم کے کسی بھی عضو مثلا ہڑی، ہڈی کے گودے، ناخن حتی کہ بال تک سے بھی نمونہ حاصل کر کے اس کے بارے میں جانا جا سکتا ہے۔یعنی ایک شخص جو مر کھپ کر مٹی ہو چکا ہو اس کی باقیات سے ڈی این اے کا نمونہ حاصل کر کے اس کے بارے میں یہ جانا جا سکتا ہے کہ اس کی جنس کیا تھی، اس کے بالوں اور آنکھوں کا رنگ کیسا تھا، جسمانی ساخت کیا تھی، اسے کون کون سی بیماریاں لاحق تھیں وغیرہ وغیرہ۔حتی کہ سائنسدانوں کے مطابق ڈی این اے کی مدد سے مرنے والے شخص کی ہو بہو تصویر بھی بنائی جاسکتی ہے۔کسی زندہ شخص کے ڈی این اے سے اس کے خاندان کا پتہ لگایا جا سکتا ہے، اسے کون سی بیماری ہے یا کون سی بیماری ہونے کا امکان ہے معلوم کیا جا سکتا ہے۔نہ صرف یہ بلکہ ڈی این اے کے ذریعے اس بات کی بھی پیشن گوئی کی جاسکتی ہے کہ مذکورہ شخص کی موت کس بیماری سے ہو گی۔کسی خاندان میں کوئی مخصوص بیماری ہو تو ڈی این اے سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اگلے پیدا ہونے والے بچے میں وہ بیماری ہو گی یا نہیں۔اب تک بنائی گئی جدید اور محفوظ ترین ہارڈ ڈرائیو میں سے بھی ڈیٹا کے ضائع ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں، لیکن ایک ڈی این اے میں موجود معلومات صدیوں تک ہر قسم کے موسمی تغیرات کے باوجود محفوظ رہ سکتی ہیں۔ہر انسان کا ڈی این اے دوسرے سے مختلف ہوتا ہے سوائے جڑواں بچوں کے۔کیونکہ ان کی پیدائش ایک ہی اسپرم اور بیضے سے ہوتی ہے۔والدین، اولاد اور بہن بھائیوں کے ڈی این اے میں ایک خاص مشابہت ہوتی ہے جو کسی دوسرے انسان کے ساتھ نہیں پائی جاتی۔اسے تیکنیکی اصطلاح میں ڈی این اے فنگر