صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 921
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۲۱ ٩- كتاب التوحيد ۳۷,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰) خلیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ہر خلیہ ایک مالیکیول پر مشتمل ہوتا ہے جسے ڈی این اے کہا جاتا ہے۔ڈی این اے کسی بھی انسان کا وہ جینیاتی کوڈ ہے جس کے ذریعے انسان کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ایک ڈی این اے میں انسان کی ظاہری شکل و صورت، اس کی زندگی اور شناخت سمیت معلومات کا اتنابڑا ذخیرہ موجود ہے کہ انسانی عقل اب تک ڈی این اے میں موجود تمام معلومات کا احاطہ نہیں کر پائی۔ایک ڈی این اے میں موجود معلومات کا ذخیرہ کتنا بڑا ہو سکتا ہے اس کا اندازہ ذیل میں دیے گئے اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔پورے انسانی وجود کے محض ایک خلیے کے ڈی این اے کو اگر لمبائی میں لکھیں تو 4 فٹ تک ہو گی۔اگر انسانی جسم کے تمام خلیوں میں موجود ڈی این اے کو جوڑا جائے تو اس کی لمبائی 100 بلین میل تک پہنچ جائے گی۔یہ فاصلہ اتنا ہے کہ ہم ۱۴ بار اپنے پورے سولر سسٹم سے باہر نکل سکتے ہیں۔یا پھر ۶۰۰ بار زمین سے سورج تک کا سفر کر سکتے ہیں۔ایک انسانی جینم ۲۰۰۰۰ جینز پر مشتمل ہوتا ہے۔یہ جینز ہمارے ڈی این اے کا اسے ۲ فیصد ہوتے ہیں۔باقی کا ۹۸ فیصد سائنسدانوں کے نزدیک Non Coded DNA ہے۔مزید یہ کہ ابھی تک ہم صرف ۲۰ فیصد ڈی این اے اور اس میں موجود معلومات کے بارے میں ہی جان پائے ہیں۔انسانی ڈی این اے میں معلومات کا ذخیرہ اس قدر زیادہ ہے کہ ایک گرام ڈی این اے میں ۷۰۰ ٹیرابٹ (TB) تک ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔ایک ٹیرابٹ ایک ہزار جی بی (GB) کے برابر ہوتا ہے۔اب تک بنائے جانے والے سمارٹ فون میں زیادہ سے زیادہ ۵۱۲ جی بی تک ڈیٹا محفوظ کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ایک گرام ڈی این اے میں کتنا ڈیٹا ہو سکتا ہے اسے یوں سمجھ لیں کہ ۳۵۸۰۰۰ گھنٹوں پر ایچ ڈی وڈیوز اس میں آرام سے سماسکتی ہیں۔اور یہ صرف ایک گرام ڈی این اے کی بات ہو رہی ہے جبکہ ایک انسانی جسم میں ۵۰ گرام تک ڈی این اے ہوتا ہے۔اب ۷۰۰ کو ۵۰ سے ضرب دے لیں حاصل جواب انسانی ڈی این اے کا کل حجم ہو گا، یعنی ۳۵۰۰۰ ٹیرابٹ۔انسانی جینم